Pakistan

سوال # 2258

میرے سوالات یہ ہیں: (۱) میں اپنے شوہر کے لیے کھانا پکانا چاہتی ہوں ، میری ساس کہتی ہیں کہ ہر ایک کے لیے کھانا پکا نا میر ا حق ہے، شوہر کے لیے کھانا پکانے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے، میں جاننا چاہتیہوں کہ کیا یہ صحیح ہے ؟ اگر میں اپنے شوہر کے لیے کھانا پکانے پر اصرار کروں تو کیا یہ میر ی ساس کی نافرنانی ہوگی یا گستاخی ؟ میری ساس میرے تئیں گستاخ ہیں ، گساخی سے مراد وہ میرے والدین ، بھائیوں اور بہنوں کے بارے میں ہر طرح کی بات کہتی ہیں ۔ اور جوبھی کام اپنے شوہر کے ساتھ کروں وہ اس پر تنقید کرتی ہیں ، صحیح چیزوں سے بھی روکتی ہیں ، اس کے حکم کے بغیر میں کسی جگہ گلاس تک نہیں رکھ سکتی ہوں ۔ وہ میری ہر بات کو بڑی بناکرپیش کرتی ہیں ، میر ے شوہر کو میرے خلاف بھڑکا تی ہیں ، لیکن وہ ہر ایک کی نظر میں اچھی ہیں ۔ اس لیے میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر میں اپنے شوہر کو الگ ہونے یا کسی اور حل کے لیے کہوں تو یہ غلط ہوگا۔

(۲) اگر میر ا شوہر اپنی ماں کی مرضی کے خلاف مجھے میر ا اپنا حق دے تو کیا یہ اس کی ماں کی نافرنی ہوگی؟ میں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہوں ، اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی ہوں جس سے اس کو تکلیف ہو، لیکن میں اس کے ساتھ اس صورت حا ل میں نہیں رہ سکتی ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر میں بیمار ہوجاؤں یا مجھے کچھ ہو جائے تو میر ے شوہر جس کے لیے سب کچھ کر رہی ہوں، مجھ سے بیزار ہو جاتے ہیں ، یہ مردوں کی فطر ی عادت ہے ۔ بر اہ کرم، میرے سوالات کا جواب دیں ۔ خدا جانتاہے کہ میں سب صحیح کہہ رہی ہوں۔

Published on: Dec 9, 2007

جواب # 2258

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1485/ ب= 1312/ ب


 


بیوی کے ذمہ اپنے شوہر کی خدمت کرنا واجب ہے۔ کھانا پکانا بھی اسی میں شامل ہے، آپ کی ساس کا یہ سمجھنا کہ بیٹے کا کھانا پکانا ان کا حق ہے یہ صحیح نہیں۔ آپ کھانا پکانے میں ان سے اصرار کرنے کے بجائے ان کے پکانے میں معاون بن جایا کرین۔ مثلاً آٹا گوندھ دیا کرین، سبزی کاٹ دیا کریں، برتن دھودیا کریں، مصالحہ پیسنا ہو تو پیس دیا کریں۔ او ران کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کی ساس ضرورت سے زیادہ سلیقہ مند معلوم ہوتی ہیں۔ وہ بہو کے ساتھ رہ کر زندگی گذارنے میں ناتجربہ کار معلوم ہوتی ہیں۔ آپ حتی الامکان مل جل کر رہنے اور کام کرنے کی کوشش کریں۔ علیحدگی کا تصور نکال دیں۔


(۲) اگر کھانا پکانے کا حق شوہر آپ کو دے تو اتنی بات میں کوئی نافرمانی نہیں ہے۔ زیادہ احساس کرنے کے بجائے گھریلو حالات اور اس کی نزاکت کا خیال کرکے کام کریں۔ آپ نے مردوں کی فطری عادت جو لکھی ہے ایسا نہیں ہے۔ شاید آپ نے غصہ میں ایسا لکھ دیا ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات