India

سوال # 2256

میں ایک سرجن ہوں ، میرا اپنا اسپتال ہے ، یہاں ایک لیڈی ڈاکٹر ( جو ماہر امراض نسواں ہے ) شیئر کی بنیا د پر کام کررہی ہے ۔ میں اپنے اسپتال میں مریضوں کو اسقاط حمل کی اجازت نہیں دیتاہوں ، لیکن وہ کہتی ہے:

(۱) ہندستان میں اس کی قانونی اجازت ہے اور ہم لوگ قانون کے پابند ہیں ۔ (۲) میں نے یہ کام کرنے کے لیے سند حاصل کی ہے اور میں نے میڈیکل کالج میں اپنی ٹر یننگ کے دوران بہت زیا دہ اسقاط حمل کیا ہے۔ (۳) اگر میں ایسانہ کروں تو مر یض کہیں جاکے یہ کرو الیں گے ، ممکن ہے کہ وہ دائی اور جھولا جھاپ ڈاکٹروں سے کروالیں، اس سے مریضوں کو زیادہ خطرات در پیش ہوسکتے ہیں۔ (۴) تما م امراض نسواں کے تعلق سے مجھے اپنا کام جاری رکھنا ضروری ہے ورنہ مریض میرے پاس نہیں آئیں گے۔ برا ہ کرم، مجھے بتائیں کہ کیا وہ صحیح کہہ رہی ہے ؟ کیا میں اپنے اسپتال میں اسقاط حمل کی اجازت دوں؟ اور کیا میں اسقاط حمل کے ذریعہ ہوئی آمدنی کو اپنے پاس رکھ سکتاہوں؟

Published on: Nov 28, 2007

جواب # 2256

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 891/د = 859/د


 


(۱) اسقاطِ حمل کرنا جب کہ استقرار کو 4/ ماہ ہوچکے ہوں حرام ہے سخت گناہ ہے۔ آپ کا اس میں تعاون کرنا ناجائز ہوگا۔ گناہ سے کسی کے بچنے کی وجہ سے دنیا سے گناہ ختم نہیں ہوگا، لیکن آدمی کو اپنے آپ کو ملوث ہونے سے بچانا لازم و ضروری ہے۔ عورتیں دوسری جگہ جاکر اسقاط کرالیں گی تو آپ تو گناہ سے بچ جائیں گے۔ اس میں ملنے والی آمدنی بھی ناجائز ہوگی۔


(۲) 4/ ماہ سے قبل اسقاط کرنا بعض مجبوری کی حالت میں مثلاً مریضہ اس قدر کمزور ہے کہ حمل کو برداشت نہیں کرسکتی اور آئندہ اس کے جان کا خطرہ ہوسکتا ہے، گنجائش ہوسکتی ہے لیکن اس میں بھی قصد فیملی پلاننگ کے مقصد سے حمل کو ضائع کرنے کا نہ ہو بلکہ مریضہ کی صحت و جان بچانا مقصود ہو۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات