Kuwait

سوال # 1818

براہ کرم، سقوط حمل کے سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں۔ میرے ایک سال کا بچہ ہے اور میں اس کی پرورش کررہی ہوں۔ اسی لیے میرے ایام پابندی سے نہیں آرہے ہیں (میری عمومی عادت سات دن کی ہے)۔ اپریل میں مجھے ۲۲ تاریخ کو ۱۲ بجے دن سے ۲۹/اپریل کی شام چھ بجے تک (ساڑھے سات دن) حیض آیا۔ ۲۳/ دن طہر رہنے کے بعد مجھے دوبارہ مئی میں ۲۲تاریخ کو شام چھ بج کر بیس منٹ سے ۵/جون تک بہت زیادہ حیض آیا (زندگی میں مجھے اتنا کبھی نہیں آیا تھا)۔ساڑھے چھ بجے شام سے میں نے غسل کر کے نماز پڑھی۔ ۶سے ۱۵/ جون تک میں پاک رہی۔ ۱۶/ جون کو میں نے سرخ دھبہ دیکھا، یہ سلسلہ ۱۹/ تاریخ تک رہا۔ میں نے غسل کیا اور نماز پڑھی۔ ۲۰/جون سے ۲۳/جون تک میں پاک رہی۔ ۲۴/ جون کو میں نے براؤن رنگ کا دھبہ دیکھا اور تین دن تک رحم میں درد رہا۔ ۲۶/ جون کو جانچ میں حمل ثابت ہوا۔ ۲۷/جون کو شام ساڑھے چار بجے ایک براؤن و سرخ رنگ کا لوتھڑا نکلااور درد کا احساس ختم ہوگیا۔ میں ڈاکٹر کے پاس گئی اور الٹراساؤنڈ سے معلوم ہوا کہ بچہ دانی خالی ہے (اس میں جنین نہیں ہے)۔ خون کی جانچ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ حمل ابھی باقی ہے جب کہ براؤن کلر کا اخراج ابھی جاری ہے۔میرے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ سقوط حمل کا سلسلہ ہے، لیکن میں جمعہ کو دوبارہ حمل کی جانچ کے سلسلے میں جاؤں گی۔ ہماری عالمہ کا کہنا ہے کہ مجھے نماز پڑھنی چاہیے کیوں کہ میں استحاضہ کی حالت میں ہوں اور ۱۶ سے ۲۶ تک کو حیض شمار کروں۔ اس سلسلے میں آپ کی تصدیق چاہتی ہوں۔

Published on: Aug 6, 2007

جواب # 1818

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 388/د = 380/د)


 


چونکہ آپ کی عادت سات دن حیض کی ہے اس لیے 22/ مئی سے 5/ جون تک جو خون آیا ہے اس میں 28/ مئی تک حسب معمول حیض ہے اور 29/ مئی سے 5/ جون تک جو خون آیا ہے وہ استحاضہ ہے ان ایام کے نماز کی قضا کرنی ہوگی (اگر اُن دنوں میں نہ پڑھی ہو) اس کے بعد 15/ جون کے بعد یا تو 16/ سے 23/ تک حیض ہوگا یا 24/ سے 30تک، آپ خود دیکھ لیں کہ کن تاریخوں میں آپ کو ماہواری آتی تھی، اگر 16/ تاریخ آپ کی عادت کے زیادہ قریب ہے تو 16/ سے 23/ تک حیض مانا جائے گا کیونکہ آپ کی عادت سات ہی دن حیض آنے کی ہے اور اگر 24/ تاریخ آپ کی عادت کے زیادہ قریب ہے تو 24/ سے 30/ تک حیض مانا جائے گا۔ اس کے علاوہ باقی ایام جن میں خون یا دھبہ دکھائی دیا وہ استحاضہ کے ایام ہوں گے جن کی نماز پڑھنی ہوگی۔ 16/ سے 26/ تک حیض شمار کرنے کی بات سمجھ میں نہیں آئی، کیونکہ جب آپ کی عادت سات دن حیض آنے کی ہے ایسی صورت میں اگر زیادتی دس دن کے اندر ہوتی ہے تب تو دس دن کے اندر تک حیض مانا جاتا ہے کہ اس مرتبہ عادت بدل گئی،لیکن اگر زیادتی دس دن سے آگے بڑھ جاتی ہے تو صرف عادت کے ایام حیض مانے جائیں گے اور زائد استحاضہ۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات