India

سوال # 168375

اگر عورتوں کے بال بہت زیادہ بڑھ جائے اور کمر کے نیچے تک لٹکتے ہو جس کی وجہ سے سکھانے اور بالوں کی اصلاح کرنے میں بہت دشواری پیش آتی ہو تو کیا نصف کمر تک بالوں کو کٹوا لینا کیسا ہے ؟ ویسے جہاں تک احقر کا خیال ہے احادیث میں فوق الوفرة بالوں کو کٹوانے کی ممانعت ہے تو کیا مذکورہ عذر کی وجہ سے عورتوں کو دون الوفرة تک بالوں کو کاٹنا جائز ہے ؟

Published on: Feb 18, 2019

جواب # 168375

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 473-412/D=06/1440



بال عورتوں کے لئے زیب و زینت کی چیز ہے اور آسمانوں پر فرشتوں کی تسبیح ہے ” سبحان من زیّن الرجال باللُّحیٰ وزیّن النساء باللذّوائب“ پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو ڈاڑھی سے زینت بخشی اور عورتوں کو لٹوں اور چوٹیوں سے)، نیز بال کٹوانے میں مردوں سے مشابہت لازم آتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، لہٰذا بال کٹوانا ناجائز ہے، لیکن اگر بال بہت زیادہ لمبے ہوگئے ہوں، اور عیب دار معلوم ہو رہے ہوں، تو عیب کو زائل کرنے کی حد تک بال کٹوا سکتے ہیں۔ قطعت شعر رأسہا أثمت ولعنت (الدر المختار: ۹/۵۸۳، ط: زکریا دیوبند) عن ابن عباس - رضی اللہ عنہما- قال: لعن رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم- المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال (بخاری شریف: ۲/۸۷۴، ط: اتحاد دیوبند) فتاوی رحیمیہ: ۵/۴۵۳، ۴۵۴، ط: مکتبہ الإحسان دیوبند، امداد الفتاوی: ۴/۲۲۷، ط: زکریا دیوبند) اور جس حدیث کا آپ نے تذکرہ کیا ہے اس حدیث کو حوالہ کے ساتھ لکھ کر ارسال کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات