Iran

سوال # 168216

کیا فرماتے ہے علمائے کرام و مفتیان عظام ، عورتوں کا پوشش چہرہ کے بارے میں ( عورتوں کا پردہ)؟ کیا یہ بات صحیح ہے کہ اجماع کے بناپر ، عورتوں کا پوشش چہرہ ، فتنہ کے زمانے میں واجب ہے ؟ کیا اسی زمانہ ، فتنہ کی دوران ہے ؟ شریعت نے ، برقع (روبند) کا استعمال کرنے کے بارے میں کیا حکم دیا ہے ؟ بینوا توجروا

Published on: Mar 7, 2019

جواب # 168216

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:501-470/N=6/1440



شریعت میں عورتوں کے لیے اجنبی مردوں سے پردہ فرض ہے اور پردہ میں چہرہ بھی داخل ہے؛ کیوں کہ وہ مجمع محاسن ہوتا ہے۔ اور عورتوں کو پردہ کا حکم خوف فتنہ کی وجہ سے ہے اور دور حاضر میں فواحش ومنکرات کی کثرت کی وجہ سے خوف فتنہ فزوں تر ہوگیا ہے ۔اور برقعہ پردہ ہی کے لیے ہے بہ شرطیکہ وہ کالا، سادہ سیدھا اور ڈھیلا ڈھالا ہو؛ ورنہ بیل بوٹے اور مختلف اسٹائلز کے برقعے یا رنگین یا چست وٹائٹ برقعے مزید فتنے کا باعث ہوتے ہیں، ان سے احتراز چاہیے۔



قال اللّٰہ تعالیٰ: ﴿یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ﴾(سورة الأحزاب، رقم الآیة: ۵۹)، قال أبو بکر: في ہذہ الآیة دلالة علی أن المرأة الشابة مأمورة بسترة وجہھا عن الأجنبیین (أحکام القرآن للجصاص ۳:۳۷۲)، وقال اللّٰہ تعالی أیضاً: ﴿وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْاُوْلٰی﴾(سورة الأحزاب، رقم الآیة: ۳۳)، قال علي بن أبي طلحة عن ابن عباس : أمر اللّٰہ نساء الموٴمنین إذا أخرجن من بیوتہن في حاجة أن یغطین وجوہہن من فوق رؤوسہن بالجلابیب، ویبدین عینًا واحدة (تفسیر ابن کثیر، ص ۱۰۸۳)، عن ابن مسعودعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: المرأة عورة فإذا خرجت استشرفہا الشیطان رواہ الترمذي (مشکاة المصابیح، کتاب النکاح،باب النظر إلی المخطوبة، الفصل الثاني،ص: ۲۶۹ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، قولہ ”استشرفہا الشیطان“ أي زینہا في نظر الرجال والمعنی: أن المرأة یستقبح بروزہا وظہورہا فإذا خرجت أمعن النظر إلیہا لیغویہا بغیرہا، ویغوي غیرہا، بہا لیوقعہا، أو أحدہما في الفتنة (تحفة الأحوذي ۴/۲۸۳المکتبة الأشرفیة دیوبند)، قال الإمام الشاہ ولي اللّٰہ : اعلم أنہ لما کان الرجال یہیّجہم النظر إلی النساء علی عشقہن والتوجہ بہن، ویفعل بالنساء مثل ذٰلک، وکان کثیرًا ما یکون ذٰلک سببًا لأن یبتغي قضاء الشہوة منہن علی غیر السنة الراشدة، کاتباع من ہي في عصمة غیرہ، أو بلا نکاح، أو غیر اعتبار کفاء ة، والذي شوہد من ہٰذا الباب یغني عما سطر في الدفاتر، اقتضت الحکمة أن یسد ہٰذا الباب(حجة اللّٰہ البالغة، ۲:۳۲۸، ط: مکتبة حجاز دیوبند)، وتمنع المرأة الشابة من کشف الوجہ بین الرجال؛ لا لأنہ عورة؛ بل لخوف الفتنة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ۲:۷۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔ فقط واللّٰہ تعالی أعلم۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات