India

سوال # 167441

میرا ایک دوست حافظ ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میرا اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کا دل چاہتاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینے میں تین بار کرسکتے ہو تو اس شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرا اس سے زیادہ دل چاہتاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتے میں ایک بار ، تو اس شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا اس سے بھی زیادہ دل چاہتاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن بعد کرسکتے ہو تو اس شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اس سے بھی زیادہ دل چاہتاہے تو آپ نے فرمایا کہ پھر مرنے کی تیاری کرو۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث صحیح ؟ براہ کرم، اس موضوع پرروشنی ڈالیں۔

Published on: Jan 3, 2019

جواب # 167441

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:340-293/sd=4/1440



 شرعا اس سلسلے میں دنوں کی کوئی تحدید نہیں ہے ، ایام ممنوعہ کے علاوہ کبھی بھی بیوی سے ہم بستری کی جاسکتی ہے ؛ البتہ مزاج و قوت کے اعتبار سے افراد کی نوعیتیں مختلف ہوتی ہیں ، اس لیے اپنی صحت و تندرستی کو ملحوظ کھنا چاہیے ، بسا اوقات کثرت جماع بہت سی بیماریوں کا سبب بن جاتاہے اور سوال میں جو حدیث لکھی گئی ہے ، وہ نہیں مل سکی ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات