Pakistan

سوال # 165064

میرا سوال یہ ہے کہ بدقسمتی کی وجہ سے کسی شرط کی وجہ سے مجھ سے میری بیوی پر تین طلاقیں پڑ چکی ہیں اور میں ایک مدرسہ کا طالب علم ہوں اور ایک بڑی جامعہ مسجد کا امام بھی ہو ہم بہت خوش تھے اب ہم دونوں خوش تھے اب ہم دونوں واپس آنا چاہتے ہیں اور بغیر حلالہ کے یہ ممکن نہیں ہے تو اب میں بحیثیت سابق شوہر کیا کسی کو ترغیب دے سکتا ہوں تاکہ وہ ہمارے گھر بسانے کے لیے میری سابقہ بیوی سے نکاح کر لے کیا یہ ترغیب باعث لعنت ہو گی اور کیا میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنے گھر میں رہ سکتا ہوں میرے تین بچے ہیں اور ایک بوڑھی ماں ہیں اور میں صبح سویرے مدرسہ جاتا ہوں اور اس طلاق کے بارے میں ہم دونوں کے سوا کسی کو علم نہیں ہم اس بات کو پردے میں رکھنا چاہتے ہیں برائے مہربانی کر کے تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Oct 6, 2018

جواب # 165064

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1-17/M=1/1440



حلالہ کے لئے کسی سے مشروط معاملہ طے کرناتو موجب لعنت ہے یعنی کسی سے اس طور پر معاملہ نہ کیاجائے کہ تمہیں میری مطلقہ بیوی سے نکاح و ہمبستری کے بعد اسے طلاق دیدینا پڑے گا ، یہ درست نہیں ہے ہاں کسی سے صورت حال کی وضاحت کرنے اور محض ترغیب دینے میں مضایقہ نہیں، شوہر ثانی نکاح کے بعد خود مختار ہوگا۔ اگر وہ ہمبستری کے بعد بلا جبر و دباوٴ کے اپنی خوشی سے طلاق دیدے تو اس کی عدت مکمل ہونے کے بعد شوہر اول سے نکاح ہو سکتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات