india

سوال # 164333

میرا سوال یہ ہے کہ عدّت کے چار مہینے پورے ہونے پر اکثر مستورات بیوہ کے گھر جا کر نئے کپڑے وغیرہ اس عورت کو دیتی ہیں ساتھ میں رشتہ دار بھی عدّت کے ختم ہونے پر بیوہ سے ملاقات کرنے جاتے ہیں، براے مہربانی وضاحت سے بتائیں کہ عدّت کی مدّت میں بیوہ پر کیا پابندیاں ہوتی ہیں اور عدّت کے ختم ہونے پر رشتہ داروں کو کیا کیا کرنا جائز ہے ؟ برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔

Published on: Sep 20, 2018

جواب # 164333

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1439-1298/D=1/1440



عدت کے زمانہ میں بیوہ کو سوگ کرنا ہے یعنی عدت میں یہ باتیں منع ہیں کہیں آنا جانا یعنی اپنے گھر سے باہر نہ نکلے، نہ اپنا دوسرا نکاح کرے نہ کچھ بناوٴ سنگار کرے یہ سب باتیں اس پر حرام ہیں، جب تک عدت ختم نہ ہو تب تک خوشبو لگانا زیور گہنا پہننا پھول پہننا، سرمہ لگانا پان کھاکر منہ لال کرنا مِسّی لگانا سر میں تین ڈالنا، کنگھی کرنا، مہندی لگانا، اچھے کپڑے پہننا ریشمی اور رنگے ہوئے بہاردار کپڑے پہننا یہ سب باتیں حرام ہیں۔



عدت پوری ہوجانے کے بعد جائز جگہ آنا جانا شروع کرسکتی ہے، زینت کے کپڑے بھی پہن سکتی ہے، زیور پہننا، مہندی لگانا سب جائز ہوگیا؛ لیکن اس کے لیے عورتوں کا اکٹھا ہونا اور کپڑے وغیرہ پہنا کر اسے کہیں لے جانا یا سب عورتوں کا اس سے ملنے کے لیے اکٹھا ہونا یہ بری رسم ہے، ایسی رسموں کو ترک کرنا چاہیے۔



بس اس قدر کافی ہے کہ بیوہ یہ سمجھے کہ اب مجھ پر سوگ کی پابندیاں نہیں ہیں، نیا کپڑا پہننا اور اسے پہن کر عدت کے بعد فوراً نکلنے کی رسم غلط ہے، پس عورت اپنے کو اس لحاظ سے آزاد سمجھے کہ جہاں کوئی ضرورت ہوئی جاسکتے ہیں اس کے لیے عورتوں کو اکٹھا ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات