Pakistan

سوال # 164045

اگر کسی باپردہ عورت کو بحالت مجبوری کسی عوامی جگہ پر نماز پڑھنا پڑے تو کیا وہ نماز کے لیے اپنا نقاب اتارسکتی ہے؟ یا اسے نامحرموں سے اپنا چہرہ نماز میں بھی چھپانا ضروری ہے؟ حج کے موقع اوربغیر حج کے دونوں صورتوں میں بتائیں۔

Published on: Aug 16, 2018

جواب # 164045

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1420-1243/L=11/1439



عورت کا نقاب پہن کر(چہرہ چھپاکر) نماز پڑھنا مکروہ ہے؛اس لیے عورت کو چہرہ کھول کر نماز ادا کرنی چاہیے؛البتہ اگر عورت ایسی جگہ نماز پڑھ رہی ہے جہاں لوگوں کی آمدورفت ہے اور کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں وہ چہرہ کھول کرنماز ادا کرے اور بے پردگی نہ ہوتو اس کو چاہیے کہ حجاب کی حالت میں ہی نماز ادا کرلے؛ کیونکہ شریعت میں پردہ کا معاملہ زیادہ سخت ہے بہ نسبت اس کے کہ کسی مکروہ امر کا ارتکاب کیا جائے والقاعدة مشہورة: إذا ابتلیتم ببلیتین فاختاروا أہونہما؛البتہ اگرعورت احرام کی حالت میں ہو تو چہرہ کھلی رکھے اور حتی الوسع محارم سے اپنے کو چھپانے کی کوشش کرے۔ قال الإمام محمد الشیباني عن أپی حنیفة عن حماد عن إبراہیم لا بأس بأن یغطي الرجل رأسہ في الصلاة ما لم یغط فاہ ویکرہ أن یغطي فاہ، قال محمد: وبہ نأخذ ونکرہ أیضًا أن یغطي أنفہ وہو قول أبی حنیفة رحمہ اللہ، قال أبو الوفا الأفغاني: أخرج الإمام أبو یوسف في آثارہ عن أبي حنیفة عن حماد عن إبراہیم أنہ کان یکرہ أن یغطي الرجل فاہ وہو في السلاة، ویکرہ أن تصلي المرأة وہي متنقبة - وفي تخریج الإحیاء للعراقي حدیث النھی عن التلعثم في الصلاة من حدیث أبي ہریرة بسند حسن نہی أن یغطي الرجل فاہ رواہ الحاکم وصحّحہ (کتاب الآثار مع حاشیة: ۱/۴۱۵-۴۱۶، باب القہقہة في الصلاة وما یکرہ فیہا، ط: المجلس العلمي، غجرات) وقال الحصکفي وتمنع المرأة الشابة من کشف الوجہ بین الرجال لا لأنہ عورة؛ بل لخوف الفتنة - قال ابن عابدین-: والمعنی: تمنع من الکشف لخوف أن یری الرجال وجہہا فتقع الفتنة ؛ لأنہ مع الکشف قد یقع النظر إلیہ بشہوة (الدر المختار مع رد المحتا: ۲/۲۲-۲۳، کتاب الصلاة، مطلب في ستر العورة، ط: دار إحیاء التراث العربي)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات