India

سوال # 161569

امید ہے کہ آنجناب بخیریت ہوں گے جضرت جی سوال یہ ہے کہ عورت کا تقریر کرنا کس حد تک جائز ہے ؟آج کل بہت سی خواتین یوٹیوب پر تقاریر اور مسائل بیان کرتیں ہیں اور جب انہیں روکا جائے تو وہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رض کی مثال پیش کرتیں ہیں کہ وہ بھی مسئلہ بیان فرماتیں تھیں۔ برائے کرم اس معاملہ میں رہنمائی فرمائیں اللہ رب العزت آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔

Published on: Jun 7, 2018

جواب # 161569

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:956-819/D=9/1439



ضرورت کے وقت عورتوں کے لیے اجنبی مردوں سے بات کرنا اسی طرح کوئی دینی مسئلہ یا حدیث وغیرہ بیان کرنا اگرچہ جائز ہے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہا سے ثابت ہے؛ لیکن شرط یہ ہے کہ ضرورت واقعی ہو یعنی کوئی دوسرا مرد مسئلہ بتلانے والا نہ ہو اور نہ اپنی کسی محرم خاتون کے توسط سے معلوم کیا جاسکتا ہو اور اس مسئلہ کی دینی اعتبار سے فوری ضرورت ہو وغیرہ۔ لیکن مائک پر یا یوٹیوب پر عورت کا تقریر کرنا یا مسائل بتلانا جائز نہیں بالخصوص جب کہ اس کی آواز مردوں تک پہنچے؛ کیوں کہ تقریر کے اندر آواز میں اتار چڑھاوٴ اور لچک پائی جاتی ہے جس سے فتنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور ایک قول کے مطابق عورتوں کی آواز بھی پردہ ہے اور خلاف احتیاط تو بہرصورت ہے اسی وجہ سے عورتوں کو اذان کہنے کی اجازت نہیں اور دیگر تسبیحات وتذکیر وتہلیل پست آواز سے کہنے کا حکم ہے؛ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کو ضرورت کی بنا پر مردوں سے بات کرتے وقت آواز کو نرم رکھنے سے منع فرمادیا تھا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات