India

سوال # 161045

میرا آبائی شہر شادی کی بے انتہا خرافات میں بھرا ہوا شہر لگتاہے ، رسم و رواجوں میں بہت ساری خرافات اور برائیاں لوگوں میں ہوتی ہیں کہ پوچھئے مت، اس سلسلے میں ایک سوال پہلے بھی کر چکا ہوں جس کا جواب اب تک ملا نہیں ہی، یہاں جو لوگ جماعت سے جڑے ہوئے لوگ اور بھی دوسرے مسالک کے لوگ جو بے انتہا پابند ہوتے ہیں۔ بے انتہا پردہ داری ان لوگوں کے مکانات میں ہوتی ہے .مالی اعتبار سے اگر آسودہ ہوں تو ان کے یہاں شادیوں میں ایک نئے رواج کی بو آرہی ہے وہ ہے دلہن کے مہر کو لے کر...کہ دلہن کا مہر سونے کے زیور کی صورت میں (آج کل تو پابندی سے ) طے پا رہا ہے ۔ مہر جس کی لڑکی اکیلی مالک ہے ، وہ اپنی مرضی سے مہر کا استعمال کر ہی نہیں پاتی، مجال ہے کہ وہ گھر میں کسی کوبتا کر یا بغیر بتائے ایک ماشہ بھی بیچ کر دکھائے ۔
یہاں میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا مہر باندھنا جائز ہے ؟ اگر ہاں تو اکیلی مالک ہونے کی صورت میں وہ گھر میں بتا کر یا بغیر بتائے وہ اس زیور کو بیچ کر دوسری چیز خرید سکتی ہے ؟ ایسی صورت میں لڑکی کے زبان کھولنے کو بغاوت سمجھا جانا کتنا صحیح ہے ؟ برائے مہربانی احادیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 15, 2018

جواب # 161045

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:929-796/N=8/1439



(۱): اگر آپ سابقہ سوال کا آئی ڈی نمبر ارسال فرمائیں تو بتایا جاسکتا ہے کہ وہ سوال اس وقت کس پوزیشن میں ہے؟ اور جلد از جلد مابقیہ کاروائی مکمل ہوکر جواب ارسال کیا جائے گا۔



(۲): عورت کا مہر روپیہ پیسہ بھی ہوسکتا ہے اور سونے چاندی کا زیور بھی، شریعت کی طرف سے مہر کی کوئی خاص نوعیت متعین نہیں ہے۔



(۲): مہر کی مالک عورت ہوتی ہے؛ اس لئے اگر وہ اپنے مہر کا زیور فروخت کرکے کوئی دوسری چیز خریدنا چاہے تو بلاشبہ جائز ہے؛ البتہ مناسب یہ ہے کہ عورت اپنے والد یا شوہرکے مشورہ سے یہ قدم اٹھائے ؛ کیوں کہ زیور بیچ کر دوسرا زیور لینے میں عام طور پر نقصان ہی ہوتا ہے؛ کیوں کہ مارکیٹ کے اصول کے مطابق سنار پرانے زیور کی واجبی قیمت نہیں دیتے اور سنار کے علاوہ دوسرے لوگ (مختلف وجوہ سے)عام لوگوں سے کوئی زیور خریدتے نہیں ۔غالباً اسی وجہ سے عوام کے معاشرہ میں عورت کو زیور بیچنے میں مکمل طور پر خود مختار نہیں رکھاجاتا؛ ورنہ عورتیں آئے دن شوق میں زیورات بیچ بیچ ادلا بدلی کرتی رہیں گی اور مالی نقصان ہوگا۔



(۳): اگر کسی معاشرہ میں مہر کا زیور بیچنے میں عورت کو مکمل طور پر غیر مختار تصور کیا جاتا ہو اور اس پر تشدد برتا جاتا ہو، یہاں تک کہ اس سلسلہ میں ضرورت پر بھی عورت کے زبان کھولنے کو بغاوت سمجھاجاتا ہو تو اسلام میں ایسا نہیں ہے، یہ غیر اسلامی معاشرہ ہی کا اثر ہوسکتا ہے۔اسلام ہمیں ہر چیز میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے؛ لہٰذا ہمیں کسی مصلحت کو مصلحت ہی کے درجے میں رکھنا چاہیے، اس میں غلو وغیرہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات