india

سوال # 160868

کیا مستورات کا مکبر الصوت یعنی ڈیجیٹل مائک کا استعمال مدرسہ یا مکتب کے سالانہ اجلاس میں قرآن کی تلاوت یا حمد و نعت وغیرہ کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے؟ جبکہ ان کی آواز اجنبی مرد سنتے ہوں۔۔۔

Published on: Apr 22, 2018

جواب # 160868

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1031-876/L=8/1439



عورت کی آواز بھی ستر ہے ، اسی لیے عورتوں کو اذان دینے اور زور سے تلبیہ پڑھنے کی اجازت نہیں ہے ؛لہذا مدرسہ یا مکتب کے سالانہ پروگرام میں مستورات کا مائک کا استعمال جس کی وجہ سے ان کی آوازباہر جائے اور اجنبی مرد سنیں جائز نہیں؛ کیونکہ یہ باعث فتنہ ہے؛ البتہ اگر عورتوں کا مجمع زیادہ ہو جس کی وجہ سے تمام عورتوں تک آواز نہ پہونچتی ہو تو اس شرط کے ساتھ مائک کے استعمال کی اجازت ہوگی کہ آواز انھیں عورتوں تک محدود رہے۔نغمة المرأة عورة وتعلمہا القرآن من المرأة أحب قال علیہ الصلوة والسلام التسبیح للرجال والتصفیق للنساء فلایحسن أن یسمعہا الرجل وفی الکافی ولاتلبی جہراً لأن صوتہا عورة (شامی/ ۲:۷۸)



 قال ابن عابدین:ذکر الامام أبو العباس القرطبي في کتابہ في السماع: ولا یظن من لا فطنة عندہ أنا اذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نرید بذلک کلامہا؛ لأن ذلک لیس بصحیح، فاذا نجیز الکلام مع النساء للأجانب و محاورتہن عند الحاجة الی ذلک، ولا نجیز لہن رفع أصواتہن ولا تمطیطہا ولا تلیینہا و تقطیعہا لما في ذلک من استمالة الرجال الیہن و تحریک الشہوات منہم، ومن ہذا لم یجز أن توٴذن المرأة اھ قلتُ: ویشیر الی ہذا تعبیر النوازل بالنغمة۔۔ ( رد المحتار: ۲/۷۹ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات