India

سوال # 159065

پانچ بھائی اپنی والدہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں الگ الگ کمروں میں رہتے ہیں اور والد کا انتقال ہوچکا ہے ، ہر بھائی کا برابرایک ایک کمرہ ہے ۔ پانچ میں سے ایک بھائی کا ۲/فروری ۲۰۱۸ کو بروز جمع بوقت مغرب انتقال ہوگیا ہے ۔ لڑکی کے والدین بضد ہیں کہ لڑکی کو عدت اپنے گھر یعنی والد کے گھر میں کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اُن کا یہ طریقہ صحیح ہے ۔ کیا مجبوری کی حالت میں ایسا کیا جاسکتا ہے کہ لڑکی اپنے والد کے گھر میں رہ کر عدت کرسکتی ہے ۔ اس میں کوئی شرعی عزر تو نہیں ہے ۔ آپ سے موٴدبانہ التماس ہے کہ درجِ بالا مسئلے پرجلد از جلد وضاحت فرمائیں تاکہ کسی قسم کی گناہ گاری نہ ہو۔ عین نوازش ہوگی۔

Published on: Feb 28, 2018

جواب # 159065

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 620-538/D=6/1439



بیوی شوہر کے انتقال کے وقت شوہر کے ساتھ جس مکان میں رہتی تھی وہیں اسے عدت گذارنی ہے میکہ جاکر عدت گذارنا جائز نہیں، جب سسرال میں بیوی کا کمرہ الگ ہے اور ساس بھی موجود ہیں اس لیے بظاہر کسی اندیشے اور فکر کی بات نہیں ہے یہیں عدت گذارے یہی شریعت کا حکم ہے، قال فيالدر: وتعتدان أي معتدة طلاق وموت في بیت وجبت فیہ ولا یخرجان منہ․(الدر مع الرد: ج۵ص۲۲۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات