INDIA

سوال # 158965

اگر ایک دو دن براوٴن ڈسچارج آیا (یعنی خارج ہوا) اور بند ہو گیا، اور پھر سفید ڈسچارج آیا۔ اس کے بعد پھر براوٴن ڈسچارج آیا اور پھر خون آنا شروع ہو گیا تو: ۔
(۱) حیض کی ابتدا کہاں سے دیکھیں گے، سفید ڈسچارج سے پہلے یا بعد سے؟
(۲) سفید ڈسچارج سے پہلے کا خون کیا ہے؟ اور سفید ڈسچارج کے بعد کا خون کیا ہے؟
(۳) کیا حیض کے درمیان میں سفید ڈسچارج آسکتا ہے؟

Published on: Sep 2, 2018

جواب # 158965

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 693-141T/H=12/1439


اگر ایک دو دن براوٴن خون آئے پھر سفید خون آئے اگر یہ سفیدی خالص ہو اور پندرہ دن سے کم ہو تو مبتدئہ (جسے نیا نیا خون آیا ہو) کے حق میں دس دن کو حیض اور دس دن سے زائد کو طہر (پاکی) شمار کیا جائے گا، اور معتادہ (جس کی کوئی عادت ہو یا پچھلے مہینے جتنے دن خون آیا اتنے دن) کے حق میں ایام عادت کو حیض اور اس سے زائد کو طہر (اور دونوں صورتوں میں زائد خون استحاضہ کہلائے گا) اور اگر وہ سفیدی خالص نہ ہو تو وہ حیض ہی کی ایک قسم ہے لہٰذا مبتدئہ دس دن تک اور معتادہ ایام عادت تک اپنے کو حائضہ شمار کرے ، اس سے زیادہ استحاضہ کا خون ہوگا: وماتراہ من لون ککدرة وترابیة في مدتہ المعتادة سوی بیاض خالص (قیل ہو شيء یشبہ الخیط الابیض) ولو المرئیّ طہراً متخلّلًا بین الدمین فیہا حیض ۔ (الدر المختار: ۱/۴۸۲ تا ۴۸۴ ، زکریا) 


(۱) سفید خون سے پہلے اگر براوٴن خون آئے اور اس سے پہلے پاکی کے ایام گزر چکے ہوں تو اگر یہ خون تین دن اور تین رات آئے پھر سفید خون آئے تو یہ حیض ہوگا اور مذکورہ بالا تفصیل پر عمل کیا جائے۔ 


(۲) سفید خو ن آنے سے پہلے کا خون اگر تین دن اور تین رات آیا ہو تو وہ حیض ہے اسی طرح سفید خو ن آنے کے بعد دس دن کے اندر اندر دوبارہ خون آجائے تو مبتدئہ کے لئے وہ حیض ہے اور معتادہ کے لئے ایام عادت کے اندر اندر حیض ورنہ استحاضہ ۔ 


(۳) جی ہاں! آسکتا ہے، اگر آجائے تو مذکورہ بالا تفصیل پر عمل کی جائے۔ الطہر المتخلل بین الدمین والدماء في مدة الحیض یکون حیضاً (ص:۹۱/۱، الفتاویٰ الہندیة) ۔ 


 


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات