Pakistan

سوال # 158692

حضرت، میرا سوال یہ ہے کہ بیوی کی خالہ (ساس کی بہن) محرم ہوتی ہے یا نامحرم ہوتی ہے؟ کیا ان سے پردہ لازم ہے؟

Published on: Feb 17, 2018

جواب # 158692

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 545-444/N=5/1439



کسی عورت سے نکاح اور صحبت کی نتیجے میں صرف اس کی ماں، دادی، نانی وغیرہ اور بیٹی، پوتی وغیرہ(اگر ہوں) حرام ہوتی ہیں، بیوی کی بہن،ساس کی بہن، نانی یا دادی کی بہن وغیرہ حرام نہیں ہوتیں؛ اس لیے بیوی کی خالہ شرعاً اجنبیہ ہے، اس سے پردہ کرنا لازم وضروری ہے۔



 مستفاد: ویحل لأصول الزاني وفروعہ أصول المزني بھا وفروعھا اھ (عن البحر)، ومثلہ ما قدمناہ قریباً عن القھستاني عن النظم وغیرہ، وقولہ: ویحل الخ: کما یحل ذلک بالوطء الحلال وتقییدہ بالحرمات الأربع مخرج لما عداہا (رد المحتار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ۴:۱۰۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ومقتضی تقییدہ بالفرع والأصل أنہ لا خلاف في عدم الحرمة علی غیرھما کالأخ والعم (المصدر السابق، ص ۱۰۶)۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات