Pakistan

سوال # 158127

کہاجاتا ہے کہ عورت پر واجب ہے کہ وہ سابقہ حیض/نفاس کی ابتدا وانتہا کو دنوں،گھنٹوں، منٹوں کے حساب سے یاد رکھے ، اسی طرح طہر کے دنوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے ، اس کی بھی آئندہ ضرورت پڑتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس حساب کتاب کو علما تک حل نہیں کرسکتے تو خواتین بیچاری کیسے ان کو حل کرپائیں گی؟ بعض اوقات حساب کرتے ہوئے دماغ بالکل ماؤف ہوجاتا ہے ۔ خصوصا منٹوں کا حساب۔کیا شریعت کا یہ حکم قطعی ہے ؟ ائمہ احناف سے منقول ہے ؟ یا بعد کے دورکی ایجادات میں سے ہے ؟صحابہ کرام اور مبارک زمانوں میں اس طرح کی تفصیلات ملتی ہیں یا وہ سیدھا سادھا حساب کرتی تھیں؟ پہلے دور میں گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں ، اس دور میں گھنٹوں منٹوں کے حساب کا تصور تک نہیں کیاجاسکتاتھا۔گھنٹوں منٹوں کا حساب رکھنے کا خواتین کو پابند بنانا“تنگی” اور “تنفر” کا باعث تو نہیں ہوگا؟
امید ہے کہ راہ نمائی فرمائی جائے گی۔

Published on: Feb 5, 2018

جواب # 158127

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 563-483/B=5/1439



نماز وغیرہ کے لیے گھنٹے اور منٹ یاد رکھنے کی ضرورت ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات