Pakistan

سوال # 156601

(۱) حضرت، چہرے کا پردہ فرض ہے یا واجب ہے یا مستحب ہے، کیا ہے؟ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ کرنا چاہئے پر نہیں کریں گے تو گناہ نہیں۔
(۲) کیا چہرے کا پردہ نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے؟ جیسے زنا شراب سود یا صغیرہ گناہ۔ صغیرہ گناہ تو ذکر و اذکار سے معاف ہو جاتے ہیں۔

Published on: Dec 23, 2017

جواب # 156601

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:240-207/D=4/1439



قرآن کریم کی سات آیات، اور احادیث مبارکہ کی ستر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ شریعت کا اصل مطلوب عورت کے لیے ایسا پردہ ہے جس میں اس کا وجود، اس کی نقل وحرکت، اُس کا لباس اور چھپی ہوئی زینت کا کوئی حصّہ کسی اجنبی مرد کو نظر نہ آئے، اور ایسا پردہ گھروں کی چہار دیواری یا معلق پردے کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے، اور یہی عورت کا اصل مقام ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا عورتوں کے لیے ارشاد ہے: وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ (الآیة) کہ اپنے گھروں کے اندر رہو اور اگر کسی ضرورت کے وقت عورت کو گھر سے باہر نکلنا ناگزیر ہوجائے، تو اس کے لیے حجاب کا دوسرا طریقہ اختیار کرنے کا حکم ہے، وہ یہ ہے کہ سر سے پاوٴں تک برقع یا لمبی چادر سے پورے بدن کو چھپاکر نکلے، جس میں چہرہ ہتھیلیاں بدن کا کوئی حصہ اور زینت کا لباس ظاہر نہ ہو، راستہ دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں کھولیں، یا برقع میں آنکھ کی جگہ جالی لگالیں، اس کا ذکر اس آیت میں ہے: یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ (الآیة) لہٰذا اس بات کے کہنے کی بالکل گنجائش نہیں ہے کہ چہرے کا چھپانا فرض اورواجب نہیں؛ بل کہ نص قطعی سے چہرہ چھپانے کا حکم ثابت ہے، البتہ دو سورتوں میں گنجائش ہے: (۱) چہرہ کھولنے کی ایسی ضرورت ہو کہ ڈھانکنے میں نقصان کا اندیشہ ہو، مثلاً بھیڑ میں چلنے کے دوران، یا گواہی وغیرہ دینے کے وقت (۲) کسب اور عمل کے وقت بلا قصد وارادہ چہرہ کھل جاتا ہو تو اس میں بھی گنجائش ہے، ایسے وقت میں مردوں کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ اوپر ذکر کردہ حکم نوجوان اور درمیانہ عمر والی عورتوں کے لیے ہے، بوڑھی عورت کے حق میں اس حکم میں کچھ تخفیف ہے۔



(۲) جہاں چہرہ کھولنے کی شرعا گنجائش نہ ہو جس کا ذکر جواب نمبر ایک کے تحت آیا، اور چہرہ کھولنے میں شہوت کے ساتھ نامحرموں کی نظر پڑنے کا اندیشہ ہو، تو ایسے وقت میں چہرہ کھولنا گناہ کبیرہ ہوگا۔ (چند اہم عصری مسائل جلد ۱/ ۲۹۵، ط: دارالعلوم دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات