India

سوال # 156092

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے جوکے حالت حیض میں ہے ، پیار ومحبت کرے (سترکھولے بنا) اورصحبت کرے بنا فارغ ہوجائے تو کیا ایسا کرنا درست ہے پھر چاہے وہ عمل ارادہ سے ہو یا غیرارادی طور سے ؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں ۔

Published on: Nov 21, 2017

جواب # 156092

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:136-123/sd=2/1439



حیض کی حالت میں بیوی سے ہم بستری کرنا حرام ہے خواہ انزال ہو یا نہ ہو، اسی طرح ناف کے نیچے سے گھٹنے کے اوپر تک درمیان کے حصے سے کپڑوں کے بغیر استمتاع ناجائز ہے ؛ البتہ کپڑوں کے اوپر سے گنجائش ہے اور بوس و کنار میں مضائقہ نہیں ، لیکن اگر بوس و کنار کی وجہ سے ہم بستری کا اندیشہ ہو،تو اس سے بھی گریز کرنا چاہیے ۔



قال اللہ تعالی: فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِی الْمَحِیضِ وَلا تَقْرَبُوہُنَّ حَتَّی یَطْہُرْنَ۔ قال الحصکفی : ( وَقُرْبَانُ مَا تَحْتَ إزَارٍ ) یَعْنِی مَا بَیْنَ سُرَّةٍ وَرُکْبَةٍ وَلَوْ بِلا شَہْوَةٍ , وَحَلَّ مَا عَدَاہُ مُطْلَقًا . قال ابن عابدین : ( قَوْلُہُ یَعْنِی مَا بَیْنَ سُرَّةٍ وَرُکْبَةٍ ) فَیَجُوزُ الاسْتِمْتَاعُ بِالسُّرَّةِ وَمَا فَوْقَہَا وَالرُّکْبَةِ وَمَا تَحْتَہَا وَلَوْ بِلا حَائِلٍ , وَکَذَا بِمَا بَیْنَہُمَا بِحَائِلٍ بِغَیْرِ الْوَطْءِ ۔( الدر المختار مع رد المحتار: ۱۹۴/۱، ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات