UAE

سوال # 156089

حضرت، میں دوبئی میں نوکری کرتا ہوں، میری بیوی میری غیرموجودگی میں سسرال میں نہیں رہنا چاہتی، میں بیوی کے لیے الگ گھر نہیں لے سکتا اور اسے دوبئی بھی نہیں لے جا سکتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ:
(۱) میرے والدین کے ساتھ میری غیر موجودگی میں رہنے سے منع کرکے میری بیوی کا میکے میں رہنے سے کیا مجھ پر بیوی کو نان و نفقہ دینا ضروری ہے؟
(۲) میں جانتا ہوں کہ ساس سسر کی خدمت بیوی پر واجب نہیں۔ الحمد للہ، میرے والدین میری بیوی سے کوئی خدمت نہیں کرواتے، لیکن اس کا یہ عذر پیش کرنا کہ شوہر نہیں ہے تو سسرال میں رہنا صحیح نہیں ہے؟
(۳) میں مجبوری میں دوبئی میں نوکری کر رہا ہوں، سال میں ایک بار انڈیا آتا ہوں تب بھی بیوی کے یہ دونوں عذر جائز ہیں؟
(۴) کیا میں دوسری شادی کر سکتا ہوں کسی ایسی لڑکی سے جو میرے والدین کے ساتھ رہنے پر خوشی سے راضی ہو؟
(۵) جب میں دوبئی سے گھر آوٴں تب میری بیوی سسرال آئے اور جب دوبئی چلا جاوٴں تب وہ واپس میکے چلی جائے، کیا یہ صحیح ہے؟
(۶) انڈیا میں نوکری کے حالات آپ جانتے ہیں، مجھے انڈیا میں نوکری نہیں مل رہی ہے، میری بیوی کا یہ ڈیمانڈ کرنا کہ تم ہر تین مہینے میں انڈیا آوٴ، کیا یہ بھی صحیح ہے؟
اللہ آپ حضرات کو شریروں کے شر سے بچائے۔ (آمین) جزاک اللہ

Published on: Dec 13, 2017

جواب # 156089

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:147-200/sd=3/1439



 (۱،۲،۳) آپ کی غیر موجودگی میں بیوی کا سسرال میں رہنا شرعا ضروری نہیں ہے ، اصل حکم یہ ہے کہ بیوی شوہر کے ساتھ رہے؛ لیکن جب آپ باہر رہتے ہیں،خواہ مجبوری میں رہتے ہوں، تو اس کی وجہ سے بیوی کو سسرال میں رہنے پر مجبور نہیں کر سکتے ، بیوی کو اختیار ہے کہ وہ میکے میں رہے یا سسرال میں رہے ، لہذا میکے میں رہنے کی وجہ سے اُس کا نان و نفقہ ساقط نہیں ہوگا، آپ کو نان نفقہ دینا ہوگا۔



(۴) محض والدین کے ساتھ رکھنے کی وجہ سے دوسری شادی نہ کریں ، دوسری شادی میں دونوں بیویوں کے درمیان حقوق میں برابری بھی شرط ہے ، پھر ہمارے علاقے میں عمومادوسری شادی کو نباہناآسان بھی نہیں ہے ۔



(۵) جی ہاں ! شرعا اس میں بیوی پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔



(۶) اگر آپ کی غیر موجودگی میں بیوی کو فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو، اس وجہ سے وہ جلدی آنے کا مطالبہ کرے ، تو اُس کا مطالبہ کرنا غلط نہیں ہے ، باقی آج کل عام حالات میں حتی الامکان بیوی کو ساتھ رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے اور اگر ضرورت ہو، تو زیادہ مدت بیوی کو الگ نہیں رکھنا چاہیے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات