India

سوال # 146780

ڈاکٹر نے میری بیوی کے رحم کی بیماری کے علاج کے لیے پلیسنٹا ایکسٹریکٹ انجکشن(Placenta Extract Injection) کا مشورہ دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس کا استعمال کرنا حلال ہے؟

Published on: Jan 7, 2017

جواب # 146780

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 221-196/N=4/1438



 



ضرورت پر فقہائے کرام نے منع حمل کی عارضی تدبیر اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، جیسے: عزل، کنڈوم کا استعمال، کاپرٹی لگوانا، ملٹی لوڈ کروانا ، دوا کھانا اور انجکشن کا استعمال وغیرہ ؛ اس لیے بچہ دانی کی کسی بیماری کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق پلیسنٹا ایکسٹریٹ انجکشن (Placenta Extract Injection) لگوایا جاسکتا ہے، علاج کے طور پر شرعاً اس کی اجازت ہے۔ مستفاد:أفاد وضع المسألةأن العزل جائز بالإذن وھذا ھو الصحیح عند عامة العلماء لما فی البخاري عن جابر: کنا نعزل والقرآن ینزل، الخ (البحر الرائق ۳: ۳۴۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، فإذا فلا کراھة فی العزل عند عامة العلماء وھو الصحیح وبذلک تظافرت الأخبار ، وفی الفتح: وفي بعض أجوبة المشایخ: الکراھة وفي بعض عدمھا، نھر الخ (رد المحتار، کتاب النکاح، باب نکاح الرقیق ۴: ۳۳۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:تزوجوا الودود الولود فإني مکاثر بکم الأمم یوم القیامة (مشکاة المصابیح ص ۲۶۷نقلاً عن السنن لأبي داود والسنن للنسائي) ، وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ذلک -العزل- الوأد الخفي ، وھي وإذا الموء ودة سئلت (المصدر السابق ص ۲۷۶نقلاً عن الصحیح لمسلم) ، فالحدیث لا یدل علی حرمتہ غایتہ الکراھة (ھامش المشکاة ص ۲۷۶نقلاً عن اللمعات) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات