Pakistan

سوال # 146151

میں اپنی بیوی کا نان و نفقہ پوار کرتا ہوں اور میری بیوی بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے لیکن وہ نوکری کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنے والدین کی مدد کرسکے، کیونکہ وہ میری کمائی سے ان کی مدد نہیں کرنا چاہتی، لیکن مجھے اس کی نوکری کرنا پسند نہیں ہے۔
(۱) کیا وہ میری اجازت سے بغیر نوکری کر سکتی ہے؟
(۲) کیا مجھ پر لازم ہے کہ میں اسے نوکری کی اجازت دوں؟
(۳) اگر میں اس کو نوکری کی اجازت دوں تو اس کے بعد بھی اس کا نان و نفقہ میری ذمہ داری ہے؟
(۴) کیا اس بات پر اس کا مجھ سے جھگڑا بنتا ہے کہ میں لازمی اس کو اجازت دوں؟
(۵) کیا اپنے ماں باپ کی کفالت اس کی ذمہ داری ہے جب کہ اس کے تین بھائی ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق گھر کو چلا رہے ہیں؟
مہربانی فرماکر جلد جواب دیں۔

Published on: Dec 8, 2016

جواب # 146151

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 158-188/B=3/1438



 



(۱) جی نہیں۔



(۲) جی نہیں لازم بھی نہیں۔



(۳) نان و نفقہ کی ذمہ داری تو آپ کے ذمہ بہرحال باقی رہے گی۔



(۴) اسے آپ کے تابع بن کر رہنا ہوگا، نوکری کرنا کوئی ضروری نہیں، اس کے نان ونفقہ کی تمام تر ذمہ داری شوہر کے ذمہ ہے اسے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی آپ کو اجازت دینا لازم ہے۔



(۵) اپنے ماں باپ کی کفالت بیٹی کے ذمہ نہیں ہے جب بیوی کے تین بھائی بھی ہیں تو وہ تینوں محنت کرکے اپنے ماں باپ کی کفالت کریں گے، بیٹی پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات