India

سوال # 69932

مسلم راجپوت (زرگران) برادری کے افراد نے ایک قبرستان کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اسکے انتظام کے لئے کچھ افرادپرمشتمل ایک جماعت بنائی، اس جماعت نے برادری کے لوگوں سے بطور امداد (صدقہ یا زکوٰة نہیں) ہفتہ واری چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا، اس سب میں سب کی نیت یہ تھی کہ جو رقم جمع ہوگی اس سے ایک زمین برائے قبرستان خرید کر وقف کردی جائے گی، تاکہ عام مسلمانوں کے عمومی طور پر اور مسلم راجپوت (زرگران) کے خصوصی طورپر جنازے وہاں دفن کئے جا سکیں، جس کی وضاحت سب کے سامنے کردی گئی تھی اس پورے عمل کے دوران سب لوگوں نے حسب حیثیت و منشاء تعاون بھی کیا، پھر ایک صاحب خیر نے برادری کے لوگوں سے اللہ کی توفیق سے یہ فرمایا کہ جتنی رقم آپ سے ہو سکے ، کرلیں، باقی میں ڈال کر زمین خرید کر برائے قبرستان اللہ کی رضا کے لئے وقف کردونگا، ان کے اس مشورہ کے بعد زمین خرید لی گئی اورایک اجلاس میں ان صاحب خیر نے برادری کے ذمہ داران کو زمین کے کاغزات سونپ دئے اور برادری کے ذمہ داران نے ان صاحب خیرکو پانچ لاکھ روپئے دے دئے اور زمین کی کل قیمت تقریباً ساڑھے چوبیس لاکھ روپئے ہوئی، اس زمین کے ایک حصہ میں ان صاحب خیر نے مسجد بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا، زمین فی الحال ان ہی کے نام ہے اور وقف بورڈ میں بھی اندراج باقی ہے ، اندراج کی کارروائی وہ صاحب، کاغزات برادری کو سونپتے وقت شروع کر چکے ہیں...
(1) مسئلہ یہ ہے کہ وہ صاحب خیر فرما رہے ہیں کہ ان کو دئے گئے پانچ لاکھ اور گیارہ لاکھ روپئے وہ صاحب اپنی طرف سے برادری کو دیتے ہیں اور زمین کہیں اور خریدی جائے ، گویا کہ یہ زمین وہ رکھ لیتے ہیں، کیونکہ انکے مطابق برادری کے لوگ کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی تدفین نہیں کر پائے اور اسکی چہار دیواری نہیں بنا پائے اور زمین کے پیڑوں وغیرہ کی دیکھ بھال نہیں کرپائے . اسکے بارے میں کیا حکم ہے ؟
(2) وقف کی نیت سے خریدی گئی زمین کا بیچنا، واپس لینا، یا زمین کو دوسری زمین سے بدلنا کیسا ہے ؟
(3) وقف کی نیت سے زمین خریدنے میں دی گئی رقم کوئی واپس لینا چاہے تو کیسا ہے ؟
(4) اس مد میں جمع رقم میں تقریباً تین لاکھ روپئے کمیٹی کے پاس موجود ہیں، ان پیسوں کو کسی دوسرے قبرستان یا قبرستان کی مسجد میں لگانا کیسا ہے ؟ جبکہ وہاں لگانے سے قریبی قبرستان میں اختیارات ملتے ہوں... واضح ہو کہ یہ قبرستان پہلے سے بھی عام ہے اور وقف ہے ، جس میں مردوں کو دفنانے کی عام اجازت ہے ، کوئی بھی کسی بھی برادری کے لوگ اپنے مردوں کو اس قبرستان میں دفن کر سکتے ہیں، اس قبرستان میں مسجد بھی پہلے سے موجود ہے ، جس کی ازسرنو تعمیر کی ضرورت ہے اورقبرستان کی تھوڑی بہت ضروریات بھی ہیں، اس دوسرے قبرستان والے لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ حضرات اس قبرستان کی مسجد اور باقی ضرورتوں کے سلسلہ میں ہمارے ساتھ مل کر تعاون کریں، کیوں کہ آپ لوگوں کے پاس پیسہ موجود ہے ، جو قبرستان ہی کے لئے اکٹھا کیا گیا ہے ، تو اگر آپ یہ پیسہ اس دوسرے قبرستان و قبرستان کی مسجد میں لگا دیتے ہیں تو آپ لوگوں کو دوسرے لوگوں سے زیادہ حق مل جائے گا. شریعت مطھرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

Published on: Nov 9, 2016

جواب # 69932

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1472-1528/L=2/1438



(۱، ۲، ۳) وقف کی نیت سے زمین خرید لینے کے بعد اس زمین کا بیچنا ، واپس لینا یا زمین کو دوسری زمین سے بدلنا جائز نہیں، اسی طرح زمین خرید لینے کے بعد اب رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنا بھی درست نہیں، اس لیے اگر زمین قبرستان کے لیے خریدی جا چکی ہے تو اب اس میں تدفین کا سلسلہ جاری کیا جائے اس میں مذکورہ بالا تصرفات جائز نہیں۔ قال فی الدرالمختار: فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملک (درمختار) وفی ردالمختار: قولہ ”لا یملک“ أی لایکون مملوکاً لصاحبہ ولایملک أی لا یقبل التملیک لغیرہ بالبیع ونحوہ لاستحالة تملیک الخارج عن ملکہ۔ (شامی: ۶/۵۳۹)

(۴) بچی رقم کو جبکہ وہ خرید کردہ قبرستان کے لیے جمع کی گئی تھی۔ اسی قبرستان کی چہار دیواری وغیرہ میں خرچ کی جائے اس قبرستان میں ضرورت کے ہوتے ہوئے دوسری جگہ اس رقم کا استعمال درست نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات