India

سوال # 69418

ہماری مسجد حسین، رحمت نگر، گلبرگہ، کرناٹک جس کو تعمیر ہو چکے دس سا ل کا عرصہ ہوچکا ہے اطراف میں کثیر مسلم آبادی ہونے کی وجہ سے موجودہ گراوٴنڈ فلور کا حصہ ناکافی ہورہا ہے، خصوصاً جمعہ میں بہت دقت ہورہی ہے لوگ جگہ نہ ملنے سے واپس جارہے ہیں، اس لیے دوسری منزل کی تعمیر ناگزیر ہے، ایک صاحب دوسری منزل کی تعمیر کرانے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے بتایا کہ انہیں کرایہ پر حاصل شدہ دوکان میں دفینہ (خزانہ) ملا ہے وہ صاحب اس خزانے کی حاصل شدہ رقم سے مسجد کی دوسری منزل تعمیر کروانے کو تیار ہیں مگر ان کی شرط یہ ہے کہ ان کا عمل راز میں رکھا جائے اور خفیہ طور پر تعمیر عمل میں لائی جائے، موصوف پہلے ٹو ویلر میکینک (دو پہیہ سے چلنے والی گاڑیوں کے انجینیر) تھے ، اب وہ کپڑوں کی تجارت کرتے ہیں، ان کی ذریعہ آمدنی حلال ہے، وہ پنج وقتہ نمازی اور دین دار ہیں۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین کہ آیا مذکورہ بالا شخص سے رقم حاصل کرکے مسجد کی دوسری منزل کی تعمیر کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے؟ آیا یہ تعمیر جائز ہے؟
براہ کرم ،جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں تاکہ تعمیر شروع ہوسکے۔

Published on: Sep 8, 2016

جواب # 69418

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1020-828/D=12/1437

صورت مسئولہ میں دفینہ کے مال کو مسجدمیں لگانا جائز نہیں ہے، ایسے مال کو اگر اصل مالک تک پہنچانا ممکن ہوتو مالک تک پہنچانا ضروری ہے ورنہ فقراء پر صدقہ کردینا واجب ہے، رہی بات مسجد کے تنگ ہونے اور دقت لاحق ہونے کی تو اگر عالیشان تعمیر کا بندو بست نہ ہوسکے تو معمولی ٹین شیڈ وغیرہ کے ذریعہ سے کام چلا لیا جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات