India

سوال # 69061

امجد اور اسکے بھائیوں نے دوکٹھے زمین مسجد کیلئے محلہ رضا نگرمیں زبانی وقف کی تھی، کچھ عرصہ گذرجانے کے بعد اس محلے سے دو کیلو میٹر دور پر ایک نیا محلہ وجود میں آیا، دونوں محلے میں ایک ایک مسجد ہے ، امجد اور اسکے بھائیوں کے ذریعہ دی گئی زمین خالی پڑی ہے اب مشورہ یہ ہورہا ہے کہ ایک کٹھہ زمین رضا نگر میں مسجد تعمیر کیلئے چھوڑ دی جائے اور ایک کٹھہ زمین فروخت کر کے نیا محلہ راجہ باغیچہ میں مسجد کیلئے زمین کی خریداری کر کے مسجد تعمیر کروائی جائے ۔یہ فیصلہ بحالت مجبوری لی گئی ہے چونکہ دونوں محلے میں بریلویوں کی اکثریت ہے مسجد بھی انکے قبضے میں ہے ۔

Published on: Aug 25, 2016

جواب # 69061

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 961-784/D=11/1437

زبانی وقف کرنے سے بھی وقف ہو جاتا ہے پس محلہ رضانگر میں جو زمین مسجد کے لیے وقف کی ہے وہ وقف دائم اور قائم رہنا ضروری ہے کسی دوسری مسجد کی خاطر موقوفہ زمین کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے دوسری مسجد کے لیے نیا بندوبست کیا جائے کیونکہ ایک مسجد پر موقوفہ زمین دوسری مسجد کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات