United States of America

سوال # 5433

امریکہ میں کچھ اسلامک سینٹر ایک ہی عمارت میں اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ ایک منزل مسجد کیلیے متعین ہوتی ہے، ایک منزل دفترکے لیے اورایک منزل اسلامی اسکول کے بچوں کی درسگاہ کے لیے، اور ایک منزل بڑے ہال کے طور پر جو کہ کھانا پکانے اور کھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ ہال اسلامک سینٹر کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی ہے کیوں کہ یہ ولیمہ وغیرہ پارٹیوں کے لیے کرایہ پر دیا جاتا ہے۔ (۱) کیا اس عمارت کی ساخت اور بناوٹ شرعی رو سے درست ہے اس لیے کہ براہ راست مسجد کی حد کے نیچے مختلف قسم کی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔ (۲) کیا عورتوں کو درسگاہ میں پڑھانے کے وقت پاک ہونا ضروری ہے؟ (۳) کیا اسلامک سینٹر کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ پارٹیوں اور دوسرے پروگراموں کے لیے ہال کا کرایہ وصول کرے؟

Published on: Jun 7, 2008

جواب # 5433

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 665=617/ د


 


مسجد شرعی کے لیے ضروری ہے کہ زمین کے نیچے کی منزل سے لے کر اوپر کی تمام منزلیں مسجد کے لیے مختص کردی گئی ہوں، اور کسی حصہ سے بندہ کا حق متعلق نہ رہے اور تمام منزلیں مسجد کے ہی کام میں استعمال ہوں۔ مذکور فی السوال تفصیل کے مطابق مذکورہ عمارت مسجد شرعی کے حکم میں نہ ہوگی، وہاں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملے گا اگرچہ جماعت سے نماز پڑھنے پر جماعت کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔


(۲) ناپاکی کی حالت میں عورتوں کا قرآن پاک پڑھانا یا قرآنی آیات کا دورانِ درس پڑھنا جائز نہیں ہے۔ البتہ دینی و اسلامی اور فقہی کتابیں پڑھاسکتی ہیں۔


(۳) اسلامک سینٹر کی عمارت جن مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے اور جن کاموں کے لیے عمارت تعمیر کی گئی ہے، انھیں کے لیے وقف مانی جائے گی،اگر اس کی کسی منزل کو پارٹی وغیرہ کے لیے دینا بانیانِ عمارت نے مقاصد میں شامل کیا ہے تو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا اور کرایہ پر دینا بھی جائز ہوگا۔ البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ مسجد کے لیے عمارت جداگانہ ہی تعمیر کرنا چاہیے جس میں نماز کے علاوہ اور کوئی مقصد اس کے کسی حصہ یا کسی منزل سے وابستہ نہ رہے۔ تاکہ مسجد شرعی کی تعمیر کرنے، اس کو آباد کرنے اور اس میں نماز پڑھنے کا ثواب اضعافاً مضاعفہ ہوکر حاصل ہو۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات