India

سوال # 3366

زبیر ایک مدرسہ کا مدیرہے، اس کی تنخواہ بہت کم ہے، اس کی یہ خواہش ہے کہ مطبخ سے اس کا اور اس کی فیملی کا کھانا جاری ہے تاکہ اس کی تنخواہ بچ جائے جب کہ مطبخ کی ساری چیزیں زکاة کی ہیں۔ زبیر مستحق زکاة بھی نہیں ہے ، بیچارے کی خواہش کی تکمیل کے لئے کیا یہ صورت اختیار کی جائے؟

Published on: Mar 27, 2008

جواب # 3366

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 317/ ب= 285/ ب


 


مدرسہ کے مطبخ کے طعام کا حق صرف نادار طالب علموں کے لیے ہے، اور حسب تجویز زیادہ سے زیادہ مدرسین کے طعام کا بند وبست بھی کیا جاسکتا ہے، اپنے عیال کے طعام مدرسہ کی ذمہ داری میں نہیں ہے، لیکن آپ چونکہ مستحق زکاة نہیں ہیں، لہٰذا اپنا طعام بھی مدرسہ سے نہ لیں کیونکہ زکاة کی رقم کسی چیز کے عوض نہیں ہوتی ہے، البتہ بڑے مدارس میں ایک طریقہٴ کار یہ دیکھا گیا ہے کہ وہاں مدرسہ کی چکی سے گیہوں کی پسائی کے بعد، بہت سستی قیمت میں مدرسین کو آٹا دیا جاتا ہے، اس کو لینا جائز ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات