United Kingdom

سوال # 2749

ہمارے یہاں کے مسلمانوں نے عبادت کے مقصد سے ایک تین منزلہ عمارت خریدی تھی۔ کچھ سالوں تک فرسٹ فلور کو نماز کے لیے استعمال کیاگیا اور گرؤنڈ فلور کو کرایا پہ دے دیاگیاتاکہ عمارت کی خریدنے میں جو قرض لیے گیاتھا اس اداکردیاجائے، چونکہ لوگوں نے اس فلور کو کبھی شرعی مسجد بنانے نیت نہیں کی تھی اور نہ ہی گرؤنڈ فلور کو کرایا پہ دینے کا کوئی مسئلہ تھا۔ اب ذمہ دار لوگوں نے فرسٹ فلور کوشرعی مسجد بنانے کا ارادہ کیاہے( صفر سات صفیں)، لیکن لوگ اس میں اعتکاف کرسکتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک فلور کو مسجد بنانا اور نیچے اور اوپر کے فلوروں میں دکانیں بنانا یامسجدکے نیچے والے فلور میں بیت الخلا ء رہائشی کمرے تعمیر کرنا جائز ہے؟

Published on: Feb 27, 2008

جواب # 2749

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 182/ د= 158/ د


 


مسجد شرعی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زمین کے نیچے سے آسمان تک بحق مسجد مختص کردیا گیا ہو کسی انسان کا حق اس سے متعلق نہ ہو، اس زمین کے کسی بھی فلور (منزل) کا استعمال نماز کے علاوہ دوسرے کام میں جائز نہیں ہے، لہٰذا جو حصہ نماز کے لیے خاص کرکے مسجد شرعی بنانے کا ہو اس کے اوپر یا نیچے کسی منزل کو کرایہ پر دینا درست نہیں ہے۔ آپ کا گراوٴنڈ فلور کو جب کرایہ پر دینے کا ارادہ ہے تو اس کے اوپر کی منزل شرعی نہ ہوگی، وہاں جماعت سے نماز پڑھنے پر جماعت کا ثواب ملے گا مگر مسجد کا ثواب نہیں ملے گا۔ اس میں اعتکاف کرنا درست نہ ہوگا، قال في الرد أما حقیقتہ الشرعیة فھي اللبث المخصوص أي في المسجد (شامي، ج۲ ص۴۰) وفي الحدیث لا اعتکاف إلا في مسجد جماعة البتہ اگر آس پاس مسجد ہی نہ ہو تو ایسی جگہ جہاں پنجوقتہ نماز جماعت کے ساتھ ہوتی ہے، اگر اعتکاف کرلیا جائے تو امید ہے کہ اعتکاف مسنون کا ثواب مل جائے گا، جس طرح عورت کے حق میں مسجد کی قید ختم ہوگئی اور مسجد بیت میں اس کا اعتکاف درست ہے یہاں بھی ایسی مجبوری اور ضرورت پر امید ہے کہ اعتکاف مسنون کا ثواب مل جائے گا۔ اور آس پاس مسجد موجود ہے تو مذکورہ جگہ اعتکاف مسنون کرنا جائز نہیں ہے۔


(ب) کچھ حصہ نماز کے لیے خاص کرکے اصل مسجد قرار دیا جائے جس کا حکم اوپر لکھ دیا گیا اورکچھ حصہ اصل مسجد نہ قرار دیا جائے اور نہ ہی نماز کے لیے مختص کیا جائے بلکہ ضروریات مسجد کے لیے روز اول سے مقرر کرلیا جائے اس حصہ پر مسجد کے لیے دکان یا وضو خانہ استنجا خانہ بناسکتے ہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات