India

سوال # 170793

ہمارے علاقہ میں سب کے سب انسانی بالوں کی تجارت کرتے ہیں جو کہ شرعا ناجائز ہے اور مسجد کے کے سارے اخراجات انہیں کے چندہ سے ہوتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان کے روپیوں اور زیورات میں زکواة ہوگی کہ نہیں نیز امام و مؤذن کی تنخواہ کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر کوئی حلال کام کرے اور پوری دیانت داری سے کام کرے تو کیا ایسے روپیوں سے اجرت یا مزدوری لینا جائز ہے ؟
واضح ہوکہ ننانوے فیصد سے زائد لوگ یہی ایک تجارت کرتے ہیں دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہیں، براہ کرم جواب عنایت فرماکر مشکور ہوں۔

Published on: Jun 26, 2019

جواب # 170793

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1095-958/H=10/1440



(۱) مسئلہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ انسانی بالوں کی تجارت ناجائز ہے غالباً یہ بھی معلوم ہوگا کہ مسجد کا تعاون حلال و پاکیزہ مال ہی سے کرنا چاہئے حرام مکروہ و مشتبہ مال مسجد میں دینے سے اجتناب کرنا چاہئے امام و موٴذن کی تنخواہ میں بھی اس قسم کا مال و روپیہ دینا درست نہیں اور ناجائز مال پر زکاة بھی واجب نہیں ہوتی بلکہ وہ کل مال مالک کو یا غرباء فقراء مساکین محتاجوں کو بلانیت ثواب دے دینے کاحکم ہوتا ہے۔



(۳) اگر کوئی شخص حلال کام کرتا ہے پوری دیانتداری کو ملحوظ رکھتا ہے تو اس شخص کے حلال و پاکیزہ مال سے مزدوری یا اجرت کے جائز ہونے میں آپ کو کیا شبہ ہے؟ اگر منشاء سوال واضح نہ لکھ سکے ہوں تو صاف اور واضح لکھ کر دوبارہ معلوم کرلیں۔



(۴) غالباً یہ مراد ہے کہ ننانوے فی صد لوگ آپ کے یہاں انسانی بالوں کی تجارت کرتے ہیں اگر ایسا ہی ہے تب بھی ان پر اپنی اپنی اصلاح واجب ہے؛ البتہ ان کو کچھ دشواریاں محسوس ہوتی ہوں تو اپنے اپنے حالات لکھ کر حکم شرعی معلوم کرکے عمل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے اگر منشاء سوال کچھ اور ہو تو اس کو صاف لکھ کر معلوم کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات