India

سوال # 170640

میرا سوال یہ ہے کہ جو سود کا کاروبار کرتے ہیں ان کے یہاں دعوت میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ اود جو عالم چندے کے طورپر لوگوں سے سود کی رقم لیتے ہیں یا کسی بھی طرح کا حرام مال لیتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

Published on: May 26, 2019

جواب # 170640

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 896-737/D=09/1440



اگر اس شخص کی اکثر یا کل آمدنی سود سے ہے تو س کی دعوت قبول کرنے اورمسجد مدرسہ کے لئے اس سے چندہ لینے سے احتراز کیا جائے اور اگر نصف سود سے ہے اور نصف دوسرے جائز طریقے سے تو اس کی دعوت قبول کرنے اور اس کا چندہ لینے کی گنجائش ہے۔



اور جس شخص کی اکثر آمدنی حلال ہے کچھ حصہ سود سے ہے تو اس کی دعوت قبول کرنا اور چندہ لینا جائز ہے۔



پس صورت مسئولہ میں جس سود کا کاروبار کرنے والے کے چندہ یا دعوت کا حکم معلوم کیا گیا ہے اس کے کاروبار کی نوعیت اور حق دار آدمی کی تحقیق کی جائے یا اندازہ لگایا جائے، اس کے بعد حکم لکھا جا سکے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات