India

سوال # 170607

(۱) ہمارے صوبہ میں سرکار کی طرف سے ماہانہ 5000 روپئے امام اور موٴذن کو دیئے جاتے ہیں تو کیا یہ پیسہ لے سکتے ہیں؟
(۲) سرکار سے دیئے گئے پیسوں سے مسجد میں بورویل ڈالی گئی ہے، جس کا پانی مسجد اور مدرسے کے لیے استعمال کیا جارہاہے، کیا یہ پانی ہم استعمال کرسکتے ہیں؟ کچھ لوگ بول رہے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہے۔

Published on: Jul 2, 2019

جواب # 170607

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 964-806/B=10/1440



اہل بستی کو اپنی مسجد کے امام اور موٴذن کی تنخواہ کا نظم خود کرنا چاہئے امام و موٴذن کو حکومت کے قبضہ میں دینا بڑی خطرناک بات ہے۔ وہ فاسق و فاجر کو اور کبھی شیعہ اور قادیان کو بھی امام و موٴذن رکھ سکتی ہے۔ جب کہ اس صورت میں کسی مقتدی کی نماز بھی صحیح نہ ہوگی۔



(۲) بورویل ڈالنے کے لئے بھی سرکار سے پیسے نہ لینا چاہئے۔ اہل بستی کو خود چندہ کرکے یہ کام کرنا چاہئے۔ اگر کوئی حکومت کا آدمی اپنی جیب سے پیسے لگادے تو اس کی اجازت ہے۔ اگر صرف مسجد کے لئے لگایا ہے تو دوسروں کے لئے پانی لینا جائز نہیں اور اگر اسے سب کے لئے لگایا ہے کہ ہر کوئی آدمی اس سے پانی لے سکتا ہے تو پھر سب کے لئے اجازت ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات