Pakistan

سوال # 169602

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک جگہ پر شرعی مسجد ہوں اور وہاں کے لوگ اس عمارت پر مدرسہ بنانا چاہتے ہوں یا امام کا گھر تو کیا یہ شرعا ٹھیک ہے یا نہیں؟
2: اگر نیچے مدرسہ ہو اور وقت بھی ہو تو کیا اس پر مسجد بنائی جا سکتی ہے جو کہ شرعی مسجد ہو اور وقف ہو۔

Published on: May 13, 2019

جواب # 169602

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:703-711/sn=9/1440



(1،2) جو جگہ مسجد شرعی کے لئے وقف ہو اس میں مدرسہ بنانا ، اسی طرح جو جگہ مدرسہ کے لئے وقف ہو اس میں مسجد بنانا جائز نہیں ہے ؛ ہاں اگر طلبہ اور اساتذہ کی ضرورت کے تحت مدرسہ کے تابع بنا کر مسجد بنالی جائے تو شرعا اس کی گنجائش ہوگی۔ اسی طرح مسجد کے تابع بنا کر اگر خارج مسجد حصہ میں کوئی مکتب(مدرسہ) بنالیا جائے تو شرعااس کی بھی گنجائش ہوگی۔



البقعة الموقوفة علی جہة إذا بنی رجل فیہا بناء ووقفہا علی تلک الجہة یجوز بلا خلاف تبعا لہا، فإن وقفہا علی جہة أخری اختلفوا فی جوازہ والأصح أنہ لا یجوز کذا فی الغیاثیة.(الفتاوی الہندیة 2/ 362،ط: زکریا)....قالوا مراعاة غرض الواقفین واجبة. (رد المحتار علی الدر المختار6/665،ط: زکریا)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات