Suri

سوال # 165943

جناب مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ پہلے مسجد ہو اس کے بعد مدرسہ ہو اہے ، اگر مدرسہ کا پیسہ اس مسجد میں عمارت بنانے کے لیے مدرسہ سے ادھار لے سکتا ہے یا نہیں؟ دلیل کے ساتھ ضرور بتائیں۔

Published on: Nov 21, 2018

جواب # 165943

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:176-252/L=3/1440



صورتِ مسئولہ میں اگر مدرسہ کے فنڈ میں ضرورت سے زائدامدادی رقم ہو،اور قرض دینے کی صورت میں رقم ملنے کی بھی امید ہو تو اہلِ شوریٰ کے مشورہ سے مسجد کے لیے ادھاررقم دینے کی گنجائش ہوگی۔ (مستفاد:فتاوی محمودیہ:۱۵/ ۴۸ ) أفتی في وصایا الخیریة بأن للوصی اقراض مال الیتیم بأمرالقاضی أخذاً مما في وقف البحر عن القنیة من أن للمتولی اقراض مال المسجد بأمر القاضي․ (ردالمحتار: ۸/۱۱۱، کتاب القضاء ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات