India

سوال # 165855

جناب مفتی صاحب ایک شخص اپنی زمین کو میلاد النبی کے لیے وقف کر دیا اب لوگ یہ چاہ تے ہیں کہ اس جگہ پر قبرستان بنا یا جاے تو کیا اس جگہ کو قبرستان بنا یا جا سکتا ہے ؟اگر نہیں تو کیا اس کو بیچ کر کسی دینی امور میں خرچ کیا جاسکتا ہے ؟ برائے کرام مدلل جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں۔

Published on: Oct 31, 2018

جواب # 165855

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 185-114/B=2/1440



مروجہ میلاد کوئی قربت و عبادت نہیں جس کے لئے زمین کو وقف کیا جائے۔ یہ محض ایک رسم و بدعت ہے جس کو جاہلوں نے ایجاد کرلیا ہے۔ صحابہ کرام جو سب سے زیادہ عاشق رسول تھے انہوں نے کبھی میلاد نہیں کیا۔ تابعین نے اور ائمہ اربعہ نے اور ہمارے مشائخ سلف و بزرگان دین نے کبھی میلاد نہیں کیا۔ یعنی یہ کوئی عبادت یا کارخیر نہیں۔ یہ محض ایک رسمی چیز اور بدعت ہے لہٰذا اس کے لئے زمین کا وقف کرنا صحیح نہ ہوگا۔ واقف کی ملکیت سے وہ زمین نہیں نکلی ہے۔ لہٰذا اس زمین کو کسی اور مصرف میں استعمال کرنے کے لئے اس سے یا اس کے ورثہ سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات