INDIA

سوال # 163119

(۱) کسی غیر مسلم کرایہ دار کا کرایہ مسجد کی تعمیر اور توسیع میں استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ غیر مسلموں میں انٹریسٹ کا کاروبار ان کے کام دھندے میں بھی ہوتا ہے؟
(۲) کیا کسی مسلم کاروباری یا سرکاری ملازم سے مسجد کے لئے لئے گئے چندے کا مسجد کی تعمیر اور توسیع یا کسی اور کام میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ ملازم کا پیسہ اور کاروباری کا پیسہ بھی بینک میں رہتا ہے جس میں انٹریسٹ شامل ہوتا رہتا ہے؟
(۳) مسجد کا ایک کافی بڑا حصہ خالی پڑا ہوا ہے جس پر اشتہار کا بڑا سائز فریم لگا ہوا ہے جس کو مسجد سالانہ بیس پر کرایہ پر دے دیتی ہے جس پر پرچار ہورڈنگ ( اشتہار) لگائے جاتے ہیں جس پر انسانی تصاویر بھی بنی ہوتی ہیں تو کیا اس قسم کے کرایہ کو مسجد کی توسیع یا تعمیر کے لئے یا مسجد کے کسی اور کام میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟
براہ کرم، قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jul 10, 2018

جواب # 163119

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1240-1103/H=10/1439



(۱) غیر مسلم کرایہ دار سے جو کرایہ حاصل ہوتا ہے وہ جائز و حلال ہے اگرچہ اُن کے کاروبار میں سودی دھندا بھی شامل ہو غیر مسلم چونکہ فروعی احکام کے مکلف نہیں ہوتے اس لئے ان کی آمدنی میں سودی دھندہ شامل ہوتو تخفیف ہوتی ہے تاہم پھر بھی اگر ان سے کہا جائے کہ علاوہ سود کے دیگر رقم سے کرایہ اداء کردیا کریں اور اس کو لے کر مسجد میں صرف کیا کریں تو احوط و بہتر ہے۔



(۲) اگر چہ بینک میں رقم ہونے پر بینک کے قانون کے تحت اس میں سود بھی بڑھتا رہتا ہے تاہم اس کی وجہ سے علاوہ سود کے بقیہ رقم پر ناجائز و حرام ہونے کا حکم نہیں ہوتا پس ان لوگوں کا دیا ہوا چندہ مسجد کی تعمیر و توسیع میں صرف کرنا جائز ہے۔



(۳) اگر چہ کرایہ پر تو حرام ہونے کا حکم نہیں اور اس کو مسجد میں لگانا بھی جائز ہے تاہم مسجد کی خالی زمین پر ایسے اشتہارات لگانا یا لگانے کی اجازت دینا کہ جن میں تصاویر محرمہ ہوں سخت مکروہ ہے اگرچہ وہ مسجد کی خالی جگہ ہے مگر چونکہ مسجد کی طرف منسوب ہے اور مسجد سے متصل ہے اس لئے مسجد کے ادب و احترام کے پامال ہونے کا بھی سخت اندیشہ ہے اور اگر وہ تصاویر اس ہیئت کی ہوں کہ دیکھنے والوں کے نفوس میں شہوت کے اُبھار اور ہیجان کا خطرہ ہو تو یہ مزید بہت بڑا مفسدہ ہے اِن امور پر ذمہ داران مسجد کو غور کرکے اصلاح کی طرف فوراً متوجہ ہونا چاہئے آمدنی خواہ کم ہو ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات