India

سوال # 162322

میرا سوال یہ ہے کہ ہم نے مہاراشٹر میں ایک دینی ادارہ کھولا ہے جو ایک چیریٹی کے ذریعہ چلتا ہے ، اب ہم نے اس چیریٹی کو 3 ایکڑ زمین گفٹ کر دی تھی، اور اس کے رجسٹریشن کے لیے تحصیلدار کے پاس جانا ہوا جو 40 لاکھ رجسٹریشن فیس مانگ رہا تھا، کیونکہ وہ بتارہے ہیں آپ کی زمین کی قیمت زیادہ ہے ، اسلیے اب ہم مسلم پرسنل لاء کے مطابق گفٹ کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ یہاں بھی 5 لاکھ. مانگ رہے ہیں رشوت کے طور پر،،، اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا اسلام میں ہم ایسے اداروں کو زمین گفٹ کر سکتے ہیں جہاں دونوں تعلیم ہو؟یعنی کیا پرسنل لاء کے مطابق ایسے اداروں کو گفٹ کر سکتے ہیں جہاں دونوں تعلیم دی جاتی ہو،؟ اور اگر کر سکتے ہیں تو کیا ہمیں اس کے لیے بھی تحصیلدار کے پاس ہی جانا ہوتا ہے یا مسلم پرسنل لاء کے مطابق ہم خود لکھت پڑت کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں رہنمائی فرمائیں ۔ بہت اہم سوال ہے یہ حضرت اس لیے اس بارے میں تفصیل سے لکھیے گا ، جو ہمارا اسلامی قانون بتاتا ہے ۔

Published on: Jul 7, 2018

جواب # 162322

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1303-1134/L=10/1439



ایسے اداروں کو بھی زمین گفٹ کرسکتے ہیں جہاں دونوں طرح (دینی ودنیاوی) تعلیم دی جاتی ہواور شرعی اعتبار سے زمین کو اپنی ملکیت سے نکال کر ادارہ کے ذمہ داران کے حوالے زمین کردینا ہبہ کے لیے کافی ہے،ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے رجسٹری ضروری نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات