India

سوال # 161756

اس مسئلہ میں رہبری فرمائیں ،دہرادون میں ایک رہائشی کالونی ہے جس میں ہندو مسلمان دونوں آباد ہیں اس کالونی کی ایک رجسٹر سوسائٹی ہے اس کے اس کالونی کے صدر نے سکار میں شکایت کی کہ کالونی کہ ایک بنے مکان میں زمین دبا رکھی ہے اور وہ زمین کالونی میں کمنیوٹی سینٹر بنانے کے لیے دی جائے ناپ سے پتا چلا کہ خسرہ کے مطابق زمین اس کا دوسرے نمبر پر بھی قبضہ ہے مگر اڈکی رجسٹری کے حساب سے آراضی کم ہے مگر جھگڑے سے بچنے کیلیے اس نے وہ آراضی 15 فٹ چوڑائی میں کمیونٹی سینڑر کیلئے چھوڑ دی صدر سوسائٹی نے 5 فٹ اس کی بنی ہوئی بلڈنگ اس آراضی میں شامل کرلی اور تعمیر شروع کردی اس کے علاوہ ایک دوسرے پلاٹ سے بھی 10 فٹ جگہ اس میں شامل کرلی کہ یہ بھی زائد ہے اور اگر پلاٹ والے کی ہے تو اس کی ہم قیمت دینگے اس کے علاوہ اس زمیں کو اپنے سیاسی اثر سے گرام سماج میں کمیونٹی سینڑر کیلئے اندراج کرادیا ہندو مکینوں کو بتایا جاتا ہے کہ کمنیوٹی سینٹر کی تعمیر ہورہی ہے اور مسلمانوں سے مدد لی گئی کہ مسجد بن رہی ہے ، اس صورتحال میں مسجد کی تعمیر کا شرعی حکم کیا ہے ؟ جزاک اللہ

Published on: Jun 11, 2018

جواب # 161756

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1222-1057/L=9/1439



مسجد کی تعمیر ایسی جگہ کرنی چاہیے جسے مالک نے بخوشی مسجد بنانے کے لیے دی ہو یا مسلمانوں نے اسے خریدی ہو ،غیر مملوک یا مشتبہ زمین پر مسجد کی تعمیر درست نہیں،آپ نے زمین کے تعلق سے جو چیزیں ذکر کی ہیں اس سے زمین کی اصلیت واضح نہیں ہوپارہی ہے ؛اس لیے بہتر ہے کہ مقامی مفتیانِ کرام کو لے جاکر اس زمین کا معائنہ کرادیا جائے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات