India

سوال # 161204

ہمارا قصبہ، شہر بریلی کے قریب ہے اور ہم یہاں مختلف قسم کے فرقہ باطلہ جیسے بریلوی اور غیر مقلد وغیرہ سے گھرے ہوئے علاقے میں ایک چھوٹا سا مدرسہ چلا رہے ہیں۔ مدرسہ کے بیت المال میں فنڈ کی کمی ہونے کی وجہ سے عمارت تعمیر نہیں کروا پا رہے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو پریشانی ہو رہی ہے ، عمارت تعمیر کرانا بیحد ضروری ہے ۔ کیا ہم زکاة ، صدقات و امداد کی مد ایک ساتھ ملا کر عمارت کی تعمیر میں استعمال کر سکتے ؟

Published on: May 20, 2018

جواب # 161204

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:975-897/M=9/1439



زکاة وصدقات واجبہ کی رقم براہ راست مدرسہ کی تعمیر میں لگانا جائز نہیں ہے، امداد وعطیہ اور نفلی صدقات کی رقم لگاسکتے ہیں مذکورہ صورت حال میں تھوڑا صبر سے کام لیں، محنت ودعا کرتے رہیں اور جائز طریقے پر کام کرنے کی فکر رکھیں، اللہ نے چاہا تو بہت جلد نظم ہوجائے گا اور پریشانی دور ہوجائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات