Bangladesh

سوال # 161028

عرض ہے کہ ہماری مسجد ندی کے قریب میں ہیں ،تھوڑے دن پہلے ہماری مسجد ندی میں ویران ہوگئی،اب نئی مسجد بنانے کیلئے مسجد کے نام وقف کردہ ایک جگہ ہیں جس میں چند قبریں وقف کے بعد بنی ہوئی ہیں،۲۵ سال پہلے کی چند قبریں ہیں اور ۳سال پہلے کی ایک قبر ہیں۔
اب سوال نمبر (۱)یہ ہے کہ قبروں سے ہڈی وغیرہ نکال کر وہاں مسجد بنانا کیسا ہے ؟جبکہ در مختار میں ہیں کہ "و لا یخرج منہ بعد إہالة التراب إلا لحق آدمی الخ" و فی الشامی:قولہ:(لحق آدمی) احتراز عن حق اللہ تعالی الخ.اور یہ موقوفہ زمین اللہ کی ملک ہے لہذا ہڈی وغیرہ نکال کر مسجد بنانا جائز نہ ہونا چاہئے ،وفی الشامی:بل صار علی حکم ملک اللہ تعالی الخ.
سوال نمبر(۲) یہ ہے کہ یا تو قبروں کو سالم رکھ کر پیلر پر مسجد بنانا کیسا ہے ؟
نوٹ: ہمارے علاقہ میں اس مسئلہ لیکر علماء میں اختلاف ہوگیا ہے ،لہذا انتہائی ادب و احترام کے ساتھ گذارش ہے کہ صحیح مسئلہ کی طرف کتابوں کے حوالہ کے ساتھ ہمیں جلد از جلد رہنمائی کریں،مہربانی ہوگی۔

Published on: May 12, 2018

جواب # 161028

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 855-730/D=8/1439



الدر المختار اور شامی کے حوالہ سے جو مسئلہ ذکر کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میت کو قبر میں دفن کرنے اور مٹی ڈال دینے کے بعد اسے قبر سے نہ نکالا جائے بجز اس کے کہ کسی آدمی کا حق اس سے متعلق ہو تو حق العبد کو حاصل کرنے کے لئے میت کو قبر سے نکالا جائے گا مثلاً میت کے ساتھ کسی آدمی کا سامان وغیرہ چلا گیا ہو یا کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے دفنایا گیا ہو۔



لیکن جو زمین کہ مسجد کی موقوفہ ہے اس میں اگر کسی کی تدفین ہوگئی ہو تو جب اندازہ ہو کہ میت بوسیدہ ہوکر مٹی میں مل گئی ہوگی تو وہاں تعمیر کرنا زمین کی کھدائی کرنا جائز ہے۔ پھر کھدائی کے دوران اگر کچھ ہڈیاں ملیں تو انہیں وہیں مٹی میں چھپا دیا جائے۔ قال فی التبیین: ولو بلی المیت وصار تراباً ، جاز دفن غیرہفی قبرہوزرعہ والبناء علیہ (تبیین الحقائق: ۲۴۶/۱)



(۲) اگر پلر پر تعمیر کرنا بہتر معلوم ہو رہا ہو تو پلر پر بھی تعمیر کرسکتے ہیں لیکن محض قبروں کے تحفظ کے لئے پلر قائم کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مطاف کی جگہ مسجد حرام میں متعدد انبیاء کی قبریں ہیں لہٰذا کسی مسجد کے نیچے قبروں کے ہونے میں حرج نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات