India

سوال # 160777

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک مدرسہ کے نام پر بطور چندہ وصول کی گئی رقم دوسرے مدرسے میں خرچ کی جاسکتی ہے یا نہیں ۔جس مدرسہ کے لئے رقم وصول کی گئی وہاں کام نہ کے برابر ہے ۔ کئی مرتبہ متنبہ کرنے پر بھی مدرسہ میں کچھ بھی ترقی نہیں ہوئی ۔اب وہاں امت کا مال لگانے میں ڈر لگ رہاہے کہ شاید مال صحیح مصرف پر خرچ نہیں ہو رہاہے ۔اور چندہ دہندگان سے اجازت بھی ناممکن ہے ۔ حوالہ جواب دے کر مشکور ہوں۔

Published on: May 6, 2018

جواب # 160777

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:853-741/N=8/1439



 جس مدرسہ کے نام عوام سے چندہ وصول کیا گیا ہو، چندہ کی رقم اسی مدرسہ کی ضروریات میں شرعی طریقہ پر صرف کی جائے، چندہ دہندگان کی اجازت کے بغیر وصول کردہ رقم کسی دوسرے مدرسہ میں صرف نہیں کی جاسکتی۔ اور اگر مدرسہ کا مالی نظام قابل اطمینان نہ ہو تو ذمہ داران مدرسہ کو متوجہ کیا جائے۔ اور اگر وہ نظام درست نہ کریں تو ایسے مدرسہ کے لیے سفیر یا مدرس کی حیثیت سے چندہ ہی نہ کیا جائے۔ اور اگر چندہ کیا جاچکا ہو اور ابھی رقم مدرسہ کے حوالہ نہ کی گئی ہو تو رسید کی بنیاد پر چندہ دہندگان سے رابطہ کیا جائے یا جن جن علاقوں میں چندہ کیا گیا ہو، وہاں معتبر ذرائع سے اعلان کرادیا جائے کہ فلاں مدرسہ کے نام جن لوگوں نے چندہ دیا ہو وہ رسید نمبر کی نشان دہی کے ساتھ فلاں موبائل نمبر پر رابطہ کرلیں۔ اور رابطہ کرنے پر یا تو ان سے دوسرے مدرسہ میں چندہ لگانے کی اجازت لے لی جائے یا ان کا چندہ انھیں واپس کردیا جائے،درج بالا صورت کے ممکن ہوتے ہوئے صورت مسئولہ میں کسی مدرسے کا چندہ دوسرے کسی مدرسہ میں لگانے کی اجازت نہ ہوگی۔



 مستفاد:وھنا الوکیل إنما یستفید التصرف من الموٴکل وقد أمرہ بالدفع إلی فلان فلا یملک الدفع إلی غیرہ کما لو أوصی لزید بکذا لیس للوصي الدفع إلی غیرہ (رد المحتار، کتاب الزکاة، ۳: ۱۸۹ط مکتبة زکریا دیوبند) ، وفیھا - أي فی الیتیمة - سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال لہ: ” ھذا زکاة مالي فادفعھا إلی فلان“ ، فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟ فقال: نعم، لہ التعیین (الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الزکوة،الفصل التاسع فی المسائل المتعلقة بمعطی الزکاة، ۳: ۲۲۹ط مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات