India

سوال # 160695

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں؟ کسی غیرمسلم سیاستدان کو مسجد میں بلوا کر محفل لگا کرسیاسی بیان دلوانا کیسا ہے ؟ کیا یہ مساجد کے مقصودکے خلاف نہیں کیا یہ مسجد کی بے حرمتی نہیں؟ مسجد میں غیر مسلم کا آنا اور اسے آنے کی اجازت دینا اور آنے کی دعوت دینا کیسا ہے ؟ کیا کسی مسلمان سیاستدان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا سیاسی بیان مسجد میں کرے ؟ اگر ان سارے سوالوں کا جواب ہاں یے تو کوئی بات نہیں اور نا یے تو ان علماء کو کیا دلیل پیش کی جائے جو غیروں سے مسجدوں میں سیاسی بیانات کروارہے ہیں؟ مدلل ومفصل اور واضح جواب ارسال فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں گے ۔

Published on: Apr 26, 2018

جواب # 160695

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:857-672/B=8/1439



احادیث میں بلاضرورت دنیاوی باتیں کرنے کو منع فرمایا گیا ہے مگر آج کل سیاسی جلسوں میں دوسری پارٹیوں کی برائیاں بیان کی جاتی ہیں اور ان پر کیچڑ اچھالی جاتی ہے، جھوٹ، عیاری، مکاری، وعدہ خلافی وغیرہ کی باتیں ہوتی ہیں اس لیے مسجد میں سیاسی جلسہ کرنا اور اس میں غیرمسلموں کو بلانا یہ مسجد کے ادب واحترام کے خلاف ہے، ایسا جلسہ مسجد کے حدود سے باہر کرنا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات