Pakistan

سوال # 160085

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں: ہمارے گاؤں کی مسجد کے لیے ایک شخص نے ایک مکان اور کچھ زمین وقف کی تھی جس کو ہمارے ہاں ''ملکانہ کی زمین'' کہا جاتا ہے ۔ تاکہ جو بھی امام صاحب اس مسجد میں امامت کرے گا وہ اس مکان میں رہائش اختیار کرے اور اس زمین کی کاشت کرکے اس کے غلے سے اپنی ضروریات پوری کیا کرے ۔ پھر جو بھی امام صاحب اس مسجد میں امامت کرتے تھے وہ اس مکان اور زمین کو استعمال کرتے تھے ۔ لیکن ایک امام صاحب آئے اس کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے امام بنے ۔ اب وہ بھی انتقال کرگئے ہیں لیکن ان کے ورثاء میں کوئی امامت کے لائق نہیں ہیں۔ لیکن ان کے ورثاء نے وہ مکان اور زمین سرکاری کاغذات میں اپنے نام انتقال کروایا ہوا ہے اور اس میں سے بعض زمین کو بیچا بھی ہے ۔ اب امامت گاؤں کے دوسرے قاری صاحب کر وا رہے ہیں۔ وہ مکان ہمارے پڑوس میں ہے یعنی درمیان میں ایک دیوار ہے اور وہ لوگ اس مکان کو بیچ رہے تھے ، لیکن اس مکان کو ایسے لوگ خرید رہے تھے جو ہمارے مزاج کے موافق نہیں تھے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ وہ لوگ ہمارے پڑوس میں آجائیں۔ اس لیے وہ مکان ہم نے خرید لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مکان کا خریدنا ہمارے لیے شرعاً کیسا ہے ؟

Published on: Apr 22, 2018

جواب # 160085

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:765-96T/B=8/1439



صورت مسئولہ میں آپ کے لیے اس موقوفہ مکان کا خریدنا شرعاً جائز نہیں؛ کیوں کہ جب واقف (شخص مذکور) نے اس غرض سے زمین اور مکان کو وقف کیا تھا کہ ہرآنے والا امام، مکان میں رہائش اختیار کرے گا اور زمین کی کاشت کرکے اپنی ضروریات پوری کرے گا تو وہ زمین اور مکان ہمیشہ ہمیش کے لیے وقف علی المسجد ہوگئی اوراس پر کسی کی ملکیت باقی نہ رہی، پس جن لوگوں نے اس مکان وزمین کو سرکاری کاغذات میں اپنے نام پر منتقل کیا ہے ان کا یہ عمل اور قبضہ کرنا، اُسے بیچنا اسی طرح کسی اور کا اسے خریدنا سب ناجائز اور گناہ ہے، گاوٴں کے سرکردہ اور معزز حضرات کو چاہیے کہ وہ مکان وزمین کو اُن کے قبضے سے چھڑاکر حسب سابق وقف کے کام میں لائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات