India

سوال # 159674

سوال: ماجرا مسجد میں دہلی سے ہندؤں کا گروپ آتا ہے ، ان کا عقیدہ کہ کوے کے پانی سے ان کو فائدہ ہوتا ہے ، بتاتے ہیں کہ انہیں ہنومان کے درشن ہوئے اور اس جگہ کو دکھایا اور وہ انھوں نے زکلم خان حضور جی نام رکھ لیا ہے اور اس مسجد کی جگہ کو بہت متبرک سمجھتے ہیں اور اڈی ناتے مسجد مدرسہ کی مدد کرتے ہیں جب آتے ہیں داوتیں کرتے ہیں جس کا اعلان مسجد کے امام صاحب کرتے ہیں یہ عمل سالوں سے چل رہا ہے ابھی حال میں مسجد کی دوسری منزل کی چھت کے سریے کی قیمت جو لاکھوں روپیہ تھی، انھوں نے دی ہندوں میں مندر میں بھی دان دیا جاتا ہے یہ پتا نہیں کہ یہ مسجد کا کام انھوں نے کس مد سے کرایا مگر یہ لگتا ہے ک اپنے اس عقیدت کی بناء پر کروایا گیا گزارش ہے اس معاملے میں رہبری فرمائیں۔

Published on: Mar 22, 2018

جواب # 159674

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:000-82T/sd=7/1439



از خود غیر مسلم سے مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے ؛ البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے کار خیر سمجھ کر تعاون ( دان ) کردے اور اس میں آگے چل کر کسی فتنے یا دخل اندازی کا اندیشہ نہ ہو، توغیر مسلم کا تعاون قبول کیا جاسکتا ہے ، بس صورت مسئولہ میں اگر ہندو نے اچھا کام سمجھ کر مسجد کے لیے کچھ تعاون کیا، تو اس کو مسجد میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے ، عموما غیر مسلم لوگ عبادت گاہوں میں خرچ کرنے کو اپنے عقیدے کے لحاظ سے کار خیر سمجھتے ہیں اور اسی نیت سے وہ تعاون کرتے ہیں؛ البتہ یہ اطمینان کرلینا ضروری ہے کہ ان کے مالی تعاون کو قبول کرنے وجہ سے آگے چل کر کسی طرح کی دخل اندازی کا اندیشہ نہ ہو، دوسری بات یہ بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ مسلمانوں کا غیر مسلموں سے زیادہ اختلاط موجودہ وقت میں دینی بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے ، اس لیے سوال کے شروع میں جو تفصیل لکھی گئی ہے کہ غیر مسلموں کا ہر سال مسجد آنا اور دعوتیں کرنا ، امام صاحب کا مسجد کے مائک سے دعوت کا اعلان کرنا؛ یہ سب باتیں قابل اشکال ہیں،علاوہ از ایں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عمل رسم کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے ، اس لیے مقامی مستند علماء سے رابطہ کر کے صورتحال پر غور کرلیا جائے ،مقامی علماء اگر ضرورت محسوس کریں گے ، توشریعت کے دائرے میں رہ کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیں گے ۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات