India

سوال # 158168

میں نے ایک مشہور و معروف عالم دین کے بیان میں سنا کہ اگر کسی نے زبردستی مسجد کا چندہ لے کر مسجد بنائی ہے تو اس مسجد میں نماز نہیں ہو گی۔ کیا یہ صحیح ہے ؟ اور کیا فرماتے ہیں علماء اکرام اگر کوئی مسجد کے ذمے دار مسجد کی تزائن نو کے لیے اگر زبردستی چندہ لیتے ہیں، اگر کوئی چندہ نہ دے سکے تو اسکا نام نوٹس بورڈپر لکھنا اور وہ زلت کے ڈر سے چندہ دے تو اس تعلق سے کیا فرماتے ہیں کیا وہاں نماز پڑھنا چاہیے یا نہیں۔
تزائن نو سے مراد (A/c, POP work, lighting, painting, sound system, new wazu khana).

Published on: Jan 20, 2018

جواب # 158168

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:539-452/L=4/1439



کسی کا مال بغیر اس کی دلی رضامندی کے لینا جائز نہیں،اگر زبردستی چندہ لے کر مسجد بنالی جائے تو اس میں نماز مکروہ ہوگی،تزئین نو کے لیے زبردستی چندہ لینے کا بھی یہی حکم ہے،چندہ نہ دینے والے کو ذلیل کرنا جائز نہیں۔عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا! ألا لا یحل مال امرء إلا بطیب نفس منہ۔ (مشکاة المصابیح / باب الغصب والعاریة، الفصل الثاني ۲۵۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات