India

سوال # 157704

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان دین مسئلہ ذیل میں: ایک قطعہ اراضی ہے جو کہ شیعہ حضرات کی تھی، اور اس میں وہ لوگ اپنے مردے دفن کرتے تھے ، پھر بعد میں انہوں نے اس میں تدفین بند کر دی، سرکاری کاغذات میں اس زمین کے متعلق جن لوگوں کے نام درج چلے آ رہے تھے ان کے وارثان نے اس زمین کی پلاٹنگ کر کے فروخت کر دی، ایک ٹکڑا الف نے بھی خریدا پھر الف سے ب نے خریدا، ب کو یہ ساری معلومات خریداری کے دیڑھ سال کے بعد ہوئی ۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ اب اس خریدی ہوئی زمین کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے ؟ یا اسے فروخت کر سکتا ہے ؟
۲. اگر نہیں، تو اس زمین کا کیا کرے ؟ اور کیا ب اس زمین میں لگاء ہوء رقم ضائع سمجھ لے ؟

Published on: Jan 22, 2018

جواب # 157704

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:464-380/sn=5/1439



سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمین مملوکہ تھی، اگر واقعہ بھی یہی ہے تو صورتِ مسئولہ میں اصل مالکوں کے ورثاء سے ”الف“ نے جو پلاٹ خریدا ہے پھر اس سے ”ب“ نے جو خریدا ہے دونوں معاملات شرعاً صحیح ہیں، ”ب“ کے لیے اس زمین کو اپنے استعمال میں لانا یا کسی کے ہاتھ فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات