Ksa

سوال # 156619

ہم گاؤں والوں نے قدیم عیدگاہ کو شہید کرکے نء عیدگاہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، اس کے لئے گاؤں کے لوگوں سے چندہ لیا گیا ہے .. ہمارے ہی گاؤں کے ایک غیر مسلم مکھیا ہیں وہ بھی پیسوں کے ذریعہ مدد کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ.. میرے پاس سرکاری فنڈ آتا رہتا ہے جیسے روڈ بھرائی یا راستے کو پکا کرنے کا فنڈ تو اسی میں سے کچھ نکال کر آپ کی عیدگاہ کے فرش پر مٹی بھروا کر سیمینٹیڈ کروا دیں گے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا غیر مسلم سے عیدگاہ کے لئے پیسے لے سکتے ہیں؟ اور کیا سرکاری فنڈ کو عیدگاہ کی تعمیر میں لگا سکتے ہیں؟ کیا مسجد اور عیدگاہ کا حکم ایک ہے یا کچھ فرق ہے ؟

Published on: Dec 20, 2017

جواب # 156619

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:290-194/sn=3/1439



روڈ بھرائی، اسی طرح راستہ وغیرہ بنانے کے لیے جو رقم سرکار کی طرف سے آتی ہے اس کا استعمال عیدگاہ وغیرہ میں شرعاً جائز نہیں ہے، اگرچہ مکھیا یا پردھان وغیرہ کی کسی تدبیر سے وہ رقم عیدگاہ وغیرہ میں دیدیں؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ لوگ مذکور فی السوال مکھیا سے اس طرح کی رقم نہ لیں، باہم چندہ کرکے یا اہل خیر حضرات کے تعاون سے ہی عیدگاہ کا کام مکمل کرنے کی کوشش کریں خواہ اس میں زیادہ وقت ہی کیوں نہ لگے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات