INDIA

سوال # 155107

کیا فرما تے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے تعلق سے کہ ہمارے علاقہ میں آج سے کچھ سال قبل مقامی سرکار کی جانب سے عیدگاہ کے لئے 5ایکڑ گورنمنٹ زمین دی گئی اس وقت سے الحمدللہ اس جگہ پر عیدین کی نماز ادا کی جاتی ہے لیکن اس 5 ایکڑ رقبہ میں سے صرف ایک یا ڈیڑھ ایکڑ رقبہ پر عیدین ادا کی جاتی ہے ، باقی زمین خالی غیر مستعمل پڑی ہوئی ہے ، ہمارے علاقہ میں ایک دینی ادارہ ہے جو ایک تنگ نا کافی زمین پر گزشتہ 27 برسوں سے خدمات انجام دے رہا ہے ۔ اب مدرسہ کے اور علاقہ کے دیگر ذی اثر احباب چاہ رہے ہیں کہ اس دینی ادارہ کے کچھ شعبہ جات کو اس عیدگاہ کی خالی غیر مستعمل زمین پر تعمیراتی کام کراکے منتقل کیا جائے ۔
اب قابل حل مسئلہ یہ ہے کہ سرکار کی جانب سے حاصل اس عیدگاہ کی زمین پر مدرسہ کی تعمیراتی کام کروانا شرعی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں؟ کیا سرکاری زمین کا حکم وقف کی زمین کی طرح ہے ؟یا اس کے احکامات الگ ہیں؟
براہ کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Nov 1, 2017

جواب # 155107

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:34-49/sd=2/1439



صورت مسئولہ میں اگر سرکار نے پانچ ایکڑ زمین عیدگاہ کے لیے دی ہے ، تو اس میں مدرسہ تعمیر کرنا جائز نہیں ہے ، سرکار کی طرف سے خاص مسلمانوں کو عیدگاہ کے لیے اگر کوئی زمین دی جاتی ہے اور مسلمان اس کو عیدگاہ کے لیے وقف کردیتے ہیں تو ، وہ وقف ہوجاتی ہے ، اُس پر وقف کے احکام جاری ہوتے ہیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات