India

سوال # 155053

حضرت، ہمارے یہاں کی عیدگاہ قبرستان میں ہے جس کے چاروں طرف قبریں ہیں تو ہم اس کی توسیع کرنا چاہتے ہیں، کیا حکم ہے؟

Published on: Oct 22, 2017

جواب # 155053

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 49-35/N=1/1439



 شریعت میں عیدگاہ الگ وقف ہے اور قبرستان الگ وقف ہے اور ایک وقف کی زمین دوسرے وقف میں لینا درست نہیں ہے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں موقوفہ قبرستان کے حصہ میں عیدگاہ کی توسیع نہیں کرسکتے۔ اور اگر عیدگاہ خود موقوفہ قبرستان میں بنائی گئی ہے تو یہ بجائے خود غلط ہے، موقوفہ قبرستان کی ساری زمین صرف مسلم اموات کی تدفین کے لیے ہوتی ہے، اس میں مسجد، مدرسہ یا عیدگاہ وغیرہ بنانا جائز نہیں۔



قد تقرر عند الفقہاء أن مراعاة غرض الواقفین واجبة و أن نص الواقف کنص الشارع، کذا في عامة کتب الفقہ والفتاوی،مستفاد:البقعة الموقوفة علی جھة إذا بنی رجل فیھا بناء ووقفھا علی تلک الجھة یجوز بلا خلاف تبعاً لھا، فإن وقفھا علی جھة أخری ، اختلفوا في جوازہ ، والأصح أنہ لا یجوز(الفتاوی الھندیة، ۲: ۳۶۲،ط:المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)عن الغیاثیة) اھ، وإن اختلف أحدھما بأن بنی رجلان مسجدین أو رجل مسجداً ومدرسة ووقف علیھما أوقافاً لا یجوز لہ ذلک (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الوقف، ۶: ۵۵۱،ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قال الخیر الرملي: أقول: ومن اختلاف الجھة ما إذا کان الوقف منزلین أحدھما للسکنی والآخر للاستغلال، فلا یصرف أحدھما إلی الآخر، وھي واقعة الفتوی اھ (رد المحتار ۶: ۵۵۱)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات