Pakistan

سوال # 155037

ایک انتظامیہ ایک جگہ مدرسہ کیلئے وقف کردیں اور بعد میں ان سے چند افراد کا انتقال ہو جائے اور باقی کہتے ہوں کہ ہم نے اس پر مسجد بنانی ہیں۔یہ شرعا ٹھیک ہے یا نہیں؟ یا اگر بالعکس صورت ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر سب بھائیوں نے ایک جگہ وقف کردی مسجد کیلئے پھر بعد میں بعض کے انتقال کے بعد وہ جگہ مدرسہ کے لیے دے دی تو اس کا کیا حکم ہے ؟

Published on: Oct 26, 2017

جواب # 155037

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:18-14/M=2/1439



صورت مسئولہ میں جب واقفین کی جانب سے وہ جگہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی ہے تو اس کو مدرسہ ہی کے لیے استعمال کرنا لازم ہے، یہ تو ہوسکتا ہے کہ اس موقوفہ جگہ کا کچھ حصہ مصالح مدرسہ کے پیش نظر مسجد کے لیے منتخب کرلیا جائے اور بقیہ اور اکثر حصے میں مدرسہ قائم رہے یعنی مسجد مدرسہ کے تابع ہو اور اصالةً مدرسہ ہی ہو لیکن یہ درست نہیں کہ مدرسہ کی حیثیت بالکل ختم کرکے اور پوری جگہ میں صرف مسجد بنادی جائے۔ اسی طرح اگر واقفین نے کوئی جگہ صرف مسجد کے لیے وقف کی ہے تو اب اس میں مسجد ہی بنانا ضروری ہے چاہے سارے واقفین موجود ہوں یا بعض انتقال کرگئے ہوں، واقف نے جب ایک جہت متعین کرکے اپنی چیز وقف کردی تو اب وہ چیز اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے بعد میں خود واقف بھی اگر نیت تبدیل کرنا چاہے تو اس کا اعتبار نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات