India

سوال # 154410

امید ہے کہ آپ حضرات عافیت سے ہوں گے ، ہمارا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے آج سے چند سال پہلے ایک مکان تین لاکھ چھبیس ہزار میں خریدا تھا،اس وقت یہ نیت کی تھی کہ مرنے کے بعد یہ مکان فلاں مسجد کیلے وقف ...ہم شادی شدہ نہیں ہیں، ہماری بھانجی ہماری خدمت کرتی ہے ، اس کے پاس مکان چھوٹا ہے ، ابھی ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ مکان بھانجی کو دیدیں...ابھی مکان کی قیمت بڑھ کر تین گنا ہو گئی ہے ، تو اب ہماراسوال ہے کہ پہلے نیت مسجد کی تھی ،کیا اب ہم نیت بدل سکتے ہیں ؟ مسجد کو ہم ساڑھے تین لاکھ روپنے دیدیں اور بھانجی کو مکان دیدیں، تو کیا اس کی گنجاش ہے ؟

Published on: Oct 12, 2017

جواب # 154410

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1538-1431/B=1/1439



محض آپ کے ارادہ اور نیت سے وہ مکان مسجد کے لیے وقف نہیں ہوا، نہ ہی آپ کے ذمہ مسجد کو دینا لازم وضروری ہوا؛ بلکہ آپ کو پورا اختیار ہے کہ آپ پورا مکان اپنی بھانجی کو دیدیں اور یہ بھی اختیار ہے کہ پورا مکان مسجد کو دیدیں اور یہ بھی اختیار ہے کہ کچھ پیسہ مکان کا مسجد کو دیدیں اور پورا مکان اپنی بھانجی کو دیدیں، جس طرح چاہیں کرلیں، سب طریقے جائز اور درست ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات