India

سوال # 146945

کیا فرماتے ہیں علمائکرام ذیل مسئلہ تعلق سے :عرض یہ ہے کہ زید کا تعلق مقامی مسجد کے انتظامیہ سے ہے اور یہ مسجد مسلمانوں کی ایک گنجان آبادی میں واقع ہے ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا مسجد کے بیرون حصے میں غسل خانے سے ملحق استنجائخانہ اور وضو خانہ بھی ہے اس کے علاوہ ایک معقول جگہ بھی مل جاتی ہے نماز پڑھنے کے لیے جس کا راستہ بازار کی جانب کھلتا ہے نماز کے قبل یا دورانِ نماز استنجائخانہ کو نمازیوں کے لیے کھول دیا جاتا ہے اور نمازوں کے اوقات کے علاوہ اس کو بند رکھا جاتا ہے علاقے کے دوکانداروں اور کارخانوں میں کام کرنے والے اور مسافر حضرات کا یہ مطالبہ ہے کہ استنجا ئخانہ اور وضو خانہ کو اور جماعت نکلنے کے بعد اپنی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کوبند نہ کیا جائے اس میں اعتراض ان افراد کا زیادہ ہے جو نماز ادا نہیں کرتے مگر پاک رہنا چاہتے ہیں اور استنجائپاک کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم اس حصے کو مسجد کے اصل حصے سے الگ ایک دروازہ لگادیں تو اصل مسجد کے سامان کی حفاظت بھی ہوجائے گی اور استنجاء، وضو اور نماز بغیر پریشانی کے ادا کرسکیں گے ۔ آپ سے یہ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ آیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے۔

Published on: Jan 10, 2017

جواب # 146945

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 247-290/Sn=4/1438



مسجد کا استنجا خانہ اور وضو خانہ مسجد کے امام، موذن اور شریک جماعت ہونے والے مقتدیوں کے لیے ہوتا ہے، عام لوگوں کے لیے ان کا عمومی استعمال جائز نہیں ہے؛ اس لیے غیر نمازی لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر مسجد کا استنجا خانہ اور وضوخانہ ہروقت کھلا نہ رکھیں؛ بلکہ نماز کے واوقات کے علاوہ دیگر اوقات میں اسے بند رکھیں اور چابھی امام یا موٴذن صاحب کے حوالہ کردیں؛ البتہ یہ گنجائش رکھی جائے کہ اگر کوئی پردیسی مسافر اتفاقا آجائے اور مسجد کے استنجاء خانہ کی چابھی طلب کرے ضرورت پوری کرنے کے لیے تو اسے چابھی دیدی جائے۔ (دیکھیں: احسن الفتاوی ۶/ ۴۴۶، ۴۴۷، ۴۵۰، ۴۶۸، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات